انقرہ : (پاک ترک نیوز)ترکیہ کے جنوب مشرق میں واقع شانلی اُورفا وہ شہر ہے جہاں تاریخ محض ماضی کی کہانی نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کا حصہ بن کر سانس لیتی ہے۔
یہ ایسا مقام ہے جہاں عبادت گاہیں صرف مذہبی فرائض کی ادائیگی کے لیے نہیں بلکہ ذہنی سکون اور سماجی میل جول کی جگہ بھی ہیںاسی وجہ سے شانلی اُورفا کو صدیوں سے انبیاء کا شہر کہا جاتا ہے۔
ایک ایسا شہر جہاں اسلام، عیسائیت اور یہودیت کی روایات ایک ہی جغرافیے میں آ کر ملتی ہیں۔یہ شہروہ خطہ ہےجسے تہذیبِ انسانی کی جنم بھومی کہا جاتا ہے۔ وقت کے ساتھ اس شہر نے کئی نام اور کئی تہذیبیں دیکھی ہیں۔
کبھی یہ آرامی قبائل کا مسکن رہا، کبھی یونانی اور رومی دور میں ایڈیسا کہلایا، پھر اسلامی فتوحات کے بعد روہا اور عثمانی دور میں اُورفا بنا۔یہ شہر تینوں ابراہیمی مذاہب میں محترم سمجھے جانے والے انبیاء سے منسوب ہے، جن میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔
مقامی روایت کے مطابق حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بت پرستی کے خلاف آواز بلند کی، جس پر وقت کے بادشاہ نے انہیں آگ میں ڈالنے کا حکم دیا، لیکن یہی آگ پانی میں بدل گئی اور لکڑیاں مچھلیوں کی صورت اختیار کر گئیں۔
آج بالیکلی گول کے شفاف پانیوں میں تیرتی مچھلیاں اسی روایت کی علامت سمجھی جاتی ہیں۔ زائرین یہاں دعا کرتے ہیں، خاموشی سے بیٹھتے ہیں اور اس جگہ کو محض ایک تاریخی مقام نہیں بلکہ روحانی تجربہ مانتے ہیں۔
اسی احاطے میں واقع حضرت ابراہیم علیہ االسلام کی جائے پیدائش سمجھا جانے والا غار بھی عقیدت کا مرکز ہے۔ یہاں آنے والے افراد، خاص طور پر خواتین، دعا، امید اور شفا کی نیت سے ٹھہرتے ہیں۔
غار کی خاموش فضا، مدھم روشنی اور دعاؤں کی سرگوشیاں اس احساس کو مضبوط کرتی ہیں کہ یہ شہر محض دیکھا نہیں جاتا بلکہ محسوس کیا جاتا ہے۔تاہم یہ شہر صرف تاریخ کا بوجھ اٹھائے خاموش نہیں بیٹھا۔ اس کے بازار آج بھی زندگی سے بھرپور ہیں۔ ڈھکے ہوئے بازار میں عرب، کرد اور ترک ثقافتوں کا امتزاج صاف دکھائی دیتا ہے۔












