راولپنڈی ( پاک ترک نیوز) راولپنڈی میں حنا جاوید قتل کیس میں مقتولہ کے اہلخانہ نے پنجاب حکومت کی جانب سے قائم اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی کمیٹی پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے علاقہ مجسٹریٹ کی عدالت میں نجی شکایت دائر کرنے کا فیصلہ کر لیا۔اہلخانہ نے ایڈیشنل آئی جی سی سی ڈی سہیل ظفر چٹھہ پر جانبداری کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ قتل کیس کی تفتیش کا رخ موڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق پولیس اپنی مرضی کا چالان عدالت میں جمع کرانے اور مقتولہ کے شوہر فیصل اصغر کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔
مقتولہ کے اہلخانہ کا دعویٰ ہے کہ ڈی این اے رپورٹ میں تین مقامات پر فیصل اصغر کی نشاندہی ہوئی ہے، تاہم قتل کا تمام الزام گھریلو ملازم پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اہلخانہ نے شواہد میں ردوبدل کرکے مقتولہ کے شوہر کو فائدہ پہنچانے کا بھی الزام عائد کیا ہے۔اہلخانہ کے مطابق نو اکتوبر کو پولیس لائنز ہیڈکوارٹرز میں اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی کمیٹی سے ملاقات ہوئی، جس میں انہوں نے اپنے تحفظات پیش کیے اور انہیں ڈی این اے رپورٹ کی تفصیلات سے آگاہ کیا گیا۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ سہیل ظفر چٹھہ سے ہونے والی گفتگو کے بعد انہیں کمیٹی کی غیر جانب داری پر بھی تحفظات پیدا ہوئے۔مقتولہ کے اہلخانہ نے الزام عائد کیا کہ پولیس کا پہلے دن سے ملزمان کے ساتھ دوستانہ رویہ ہے اور اب نجی شکایت دائر کرنے کے علاوہ ان کے پاس کوئی راستہ نہیں بچا۔
یہ بھی پڑھیں: گورنر راج کے بعد وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ، سی ایم ہاؤس اور اسکواڈ پر تعینات 48 اہلکار واپس طلب
اہلخانہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے تحفظات سے آگاہ کرنے کے لیے وزارتِ قانون، قومی کمیشن برائے انسانی حقوق اور پارلیمان کی متعلقہ کاکس کمیٹی کو بھی خطوط ارسال کر دیے ہیں۔












