بیجنگ(پاک ترک نیوز )چین کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے پہلی بار چینی فضائیہ کے ایچ 6 کے بمبار طیارے سے بحری جہازوں کو نشانہ بنانے والے بیلسٹک میزائل وائی جے 21 داغنے کی ویڈیو جاری کر دی ہے۔ اس میزائل کو چین کی بحری جنگی صلاحیتوں میں اہم اضافہ قرار دیا جا رہا ہے، جو طویل فاصلے سے دشمن کے جنگی جہازوں اور امریکی بحری بیڑوں کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
دفاعی امور کے مطابق وائی جے 21 ایک ہائپرسونک رفتار سے پرواز کرنے والا بحری شکن میزائل ہے، جس کی رفتار پرواز کے مختلف مراحل میں آواز کی رفتار سے چھ سے دس گنا تک بتائی جاتی ہے۔ انتہائی تیز رفتار کے باعث اسے روکنا دشمن کے فضائی دفاعی نظام کے لیے مشکل ہو سکتا ہے، جبکہ ہدف سے ٹکرانے کے وقت اس کی حرکی توانائی بھی تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔
یہ میزائل پہلی بار 2018 میں چین کے شہر ژوہائی میں ہونے والی فضائی نمائش کے دوران سامنے آیا تھا۔ دفاعی اندازوں کے مطابق اس کی مار تقریباً دو ہزار کلومیٹر تک ہو سکتی ہے، تاہم اس کی حقیقی صلاحیتوں اور عملی کارکردگی کے تمام پہلوؤں کی آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں۔
رپورٹس کے مطابق ایچ 6 کے بمبار طیارہ ایک وقت میں چار تک وائی جے 21 میزائل لے جا سکتا ہے۔ اس صلاحیت سے چین کو ایک ہی کارروائی میں متعدد میزائل داغ کر دشمن کے دفاعی نظام پر دباؤ بڑھانے کا موقع مل سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈالر کی عالمی حکمرانی کو چیلنج کرنے کے لیے چین کا بڑا قدم، یوآن کو عالمی کرنسی بنانے کی مہم تیز
چین کا ایچ 6 بمبار طیارہ اس کی طویل فاصلے تک حملے کرنے والی فضائی قوت کا اہم حصہ ہے۔ وائی جے 21 سے پہلے وائی جے 12 میزائل بھی بحری اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ وائی جے 12 کی رفتار آواز سے تین گنا سے زیادہ اور بتائی جانے والی مار تقریباً 400 کلومیٹر ہے۔
چین کے پاس وائی جے 20 جیسے دیگر جدید ہائپرسونک میزائل بھی موجود ہیں، جنہیں جنگی جہازوں اور آبدوزوں سے داغنے کی صلاحیت کے حوالے سے اہم سمجھا جاتا ہے۔ ان مختلف میزائل نظاموں کو یکجا کرکے چین دشمن کے بحری دفاع کو بیک وقت کئی سمتوں سے مصروف کر سکتا ہے۔












