پشاور ( پاک ترک نیوز) پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخوا کے سیکرٹری اطلاعات شوکت یوسف زئی نے صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو مسترد کرتے ہوئے حکومت سے فیصلہ واپس لینے اور مذاکرات کی طرف آنے کا مطالبہ کیا ہے۔
شوکت یوسف زئی نے اپنے ردعمل میں کہا کہ تحریک انصاف ایمرجنسی اور گورنر راج کی مذمت کرتی ہے۔ مذاکرات کے ذریعے معاملات طے پا رہے تھے، لیکن حکومت نے جلد بازی میں فیصلہ کیا۔ اگر حکومت مولانا فضل الرحمان کی بات مان لیتی تو یہ غیر جمہوری اقدام نہ اٹھانا پڑتا۔ ان کے مطابق مولانا فضل الرحمان بھی تصدیق کر چکے ہیں کہ معاملات طے پا گئے تھے۔
پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ تحریک انصاف کبھی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں رکاوٹ نہیں بنی بلکہ اس نے ہمیشہ دہشت گردی کی مذمت کی ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر دہشت گردی کے خلاف متفقہ پالیسی بنانی چاہیے تھی، کیونکہ یہ جنگ عوامی حمایت سے ہی جیتی جا سکتی ہے۔
شوکت یوسف زئی کا کہنا تھا کہ حکومت نے ایسا راستہ اختیار کیا ہے جس سے ملک میں سیاسی عدم استحکام بڑھے گا۔ تحریک انصاف کو دہشت گردوں کا سہولت کار قرار دینا عوامی مینڈیٹ کی توہین ہے، جبکہ وزرا کی جانب سے اپنی ناکامیوں کا ملبہ پی ٹی آئی پر ڈالنا بھی درست نہیں۔انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی اور گورنر راج جمہوریت پر حملہ ہے، تحریک انصاف پرامن سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے اور اس اقدام کے خلاف آئینی و قانونی جنگ لڑے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے مطالبات جائز اور قانونی ہیں۔پی ٹی آئی رہنما نے سیاسی اور قانونی جدوجہد کرنے والے کارکنوں کی گرفتاریوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پرامن احتجاج کرنے والے کارکنوں کے خلاف طاقت کا استعمال نہ کیا جائے اور فوری طور پر کریک ڈاؤن بند کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا میں امن کے لیے وفاق اور صوبائی حکومت ایک پیج پر ہیں، محسن نقوی
شوکت یوسف زئی نے کہا کہ اب بھی وقت ہے کہ حکومت ایمرجنسی اور گورنر راج کا فیصلہ واپس لے کر مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے اس معاملے پر پاکستان پیپلز پارٹی کے کردار کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔












