بیجنگ ( پاک ترک نیوز) سوچیے۔۔۔۔ آپ ٹرین میں بیٹھے ہوں اور چند ہی لمحوں میں رفتار 400 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ جائے! نہ جہاز میں سوار ہونے کی ضرورت، نہ ہوائی اڈے کی لمبی قطاریں! چین اب ریل کی دنیا میں ایک ایسا قدم اٹھانے کے قریب ہے جو مستقبل کے سفر کی رفتار ہی بدل سکتا ہے! آخر چین کی نئی ٹرین میں ایسا کیا خاص ہے؟ اور ریلوے حکام نے اچانک ٹرینوں کی شناخت کا نظام کیوں بدل دیا؟ دیکھیے یہ رپورٹ!
چین نے تیز رفتار ٹرینوں کی دنیا میں ایک اور بڑی پیش رفت کا اشارہ دے دیا ہے۔ چین کا قومی ریلوے ادارہ مستقبل میں 350 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ رفتار سے چلنے والی مسافر ٹرینوں کے لیے نئی درجہ بندی متعارف کرا رہا ہے۔اس نئے نظام کے تحت جدید فوشنگ ٹرینوں کے نام اور شناخت کے لیے انگریزی حرف ایکس، یعنی X، کا سابقہ استعمال کیا جائے گا۔چینی زبان میں لفظ ’’شِن‘‘ کے معنی ہیں نیا! اور یہی نیا حرف مستقبل میں پہلے سے زیادہ رفتار سے چلنے والی ٹرینوں کی شناخت کے لیے استعمال ہوگا۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ چین 400 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار والی ٹرینوں کی جانب کیوں بڑھ رہا ہے؟تیز رفتار ریل کا مقصد صرف رفتار بڑھانا نہیں، بلکہ بڑے شہروں کے درمیان سفر کا وقت کم کرنا، مسافروں کو تیز تر سفری سہولت دینا اور جدید ٹرانسپورٹ نظام کو مزید مؤثر بنانا بھی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی وزیر تجارت جام کمال سے امریکی ناظم الامور کی ملاقات
350 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ رفتار کے لیے نئی درجہ بندی کا اعلان اس بات کا اشارہ ہے کہ چین مستقبل میں مزید تیز رفتار مسافر سروسز چلانے کی تیاری کر رہا ہے۔ چین کی فوشنگ ٹرینیں پہلے ہی جدید تیز رفتار ریلوے نظام کا اہم حصہ ہیں۔ اب نئی درجہ بندی کے ذریعے زیادہ رفتار کی صلاحیت رکھنے والی ٹرینوں کو الگ شناخت دی جائے گی۔تاہم ایک اہم بات ذہن میں رکھیں: ریلوے حکام کے اعلان میں نئی درجہ بندی کا ذکر ہے، لیکن 400 کلومیٹر فی گھنٹہ رفتار والی ٹرین کی باقاعدہ تجارتی سروس شروع ہونے کی حتمی تاریخ ابھی فراہم کردہ معلومات میں سامنے نہیں آئی۔
یعنی مستقبل کی ریل صرف پٹری پر دوڑنے والی سواری نہیں، بلکہ وقت بچانے اور شہروں کو مزید قریب لانے والی ٹیکنالوجی بن رہی ہے!اب دیکھنا یہ ہے کہ چین کی یہ نئی پیش رفت کب باقاعدہ مسافر سروس میں تبدیل ہوتی ہے، اور کیا آنے والے برسوں میں 400 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار عام ریلوے سفر کا حصہ بن سکے گی؟












