انقرہ(پاک ترک نیوز) ترکیہ اور بلغاریہ کی سرحد پر حمزہ بے لی سرحدی گزرگاہ پر ٹرکوں کی 30 کلومیٹر طویل قطار لگ گئی، جس کے باعث یورپ کو ترکیہ کی برآمدات لے جانے والے ڈرائیور گھنٹوں اور بعض صورتوں میں دو روز سے انتظار کرنے پر مجبور ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سرحد کے بلغاریہ کی جانب گاڑیوں کی جانچ پڑتال اور کارروائی سست ہونے کے باعث ٹرکوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے۔ ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ طویل انتظار کے دوران انہیں کھانے پینے کی اشیا اور صفائی کی سہولتوں تک محدود رسائی حاصل ہے۔
ٹرک ڈرائیور سائت اوزکان نے 17 اکتوبر کو بتایا کہ وہ دو روز سے قطار میں پھنسے ہوئے ہیں اور قطار کے تقریباً 20ویں کلومیٹر پر موجود ہیں۔ ان کے مطابق دونوں جانب گاڑیوں کی کارروائی مطلوبہ رفتار سے نہیں ہو رہی، جس کے باعث انتظار مزید دو سے تین روز تک بڑھنے کا خدشہ ہے۔
ایک اور ڈرائیور، ایرجان اولوس نے بتایا کہ وہ تقریباً 10 گھنٹے سے قطار میں موجود ہیں۔ ان کے مطابق قطار 26ویں کلومیٹر سے 23ویں کلومیٹر تک آگے بڑھی، تاہم بلغاریہ کی جانب کارروائی اب بھی سست ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سرحد پر پاسپورٹ کی جانچ کے لیے صرف ایک اہلکار کام کر رہا ہے اور حکام سے کارروائی تیز کرنے کا مطالبہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: مقناطیسیت کی تیسری قسم دریافت کرنے والے3سائنس دانوں نے بڑا عالمی اعزاز جیت لیا
ڈرائیور سائت اوزکان نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ رات کے وقت غیر قانونی تارکین وطن کھڑے ٹرکوں میں داخل ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر گاڑیوں کی مہریں یا ترپالیں خراب ہو جائیں تو ڈرائیوروں کو جرمانے یا دیگر مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب ترکیہ اور بلغاریہ کے درمیان موجودہ گزرگاہ پر دباؤ کم کرنے کے لیے ایک نئی سرحدی گزرگاہ کھولنے کی تجویز پر بھی بات چیت جاری ہے۔ مجوزہ گزرگاہ کو عارضی طور پر ’’کاپی کُلے، کاپی تان آندریوو شمالی‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔






