کراچی:(پاک ترک نیوز)کراچی کے مصروف علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں پیش آنے والے المناک سانحے کے بعد ریسکیو اور تلاش کا عمل فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق اب تک کم از کم 61 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے، جب کہ 88 افراد تاحال لاپتا ہیں۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ملبے تلے مزید انسانی باقیات موجود ہو سکتی ہیں، اسی لیے حکام نے فائنل سرچ آپریشن کا حکم دیا ہے۔ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ رات بھر جاری رہنے والے آپریشن کے دوران متعدد لاشیں اور انسانی باقیات نکالی گئیں، جن میں سے کئی ناقابل شناخت حالت میں تھیں۔
سول ہسپتال کراچی منتقل کی گئی لاشوں میں اب تک 15 کی شناخت ممکن ہو سکی ہے، جبکہ 11 لاشیں لواحقین کے حوالے کر دی گئی ہیں۔ باقی لاشوں کی شناخت ڈی این اے ٹیسٹ کے بعد ہی ممکن ہو گی، جس کے باعث متاثرہ خاندان شدید ذہنی اذیت کا شکار ہیں۔بدھ کے روز بڑی تعداد میں انسانی باقیات اسپتال منتقل کی گئیں۔
حادثے میں جاں بحق ہونے والے واحد غیر مسلم شہری کی بھی شناخت مکمل کر لی گئی ہے اور اس کے اہلِ خانہ کو اطلاع دے دی گئی ہے۔انتظامیہ کے مطابق فائنل سرچ آپریشن مکمل ہونے کے بعد گل پلازہ کی عمارت کو منہدم کیا جائے گا، تاہم ڈپٹی کمشنر جنوبی جاوید نبی کھوسو کا کہنا ہے کہ جب تک آخری لاپتا فرد کے ملنے کی تصدیق نہیں ہو جاتی، عمارت کو گرانا ممکن نہیں کیونکہ ملبے کے نیچے مزید باقیات ہونے کا امکان ہے۔
آپریشن کے دوران ایسے شواہد بھی سامنے آئے ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ آگ لگنے کے وقت چھت کے راستے پر موجود گیٹ بند تھا، جس کی وجہ سے متعدد افراد عمارت سے باہر نہ نکل سکے۔ ریسکیو اہلکاروں کے مطابق میزنائن فلور پر واقع ایک دکان سے 20 سے 25 افراد کی باقیات ملی ہیں، جہاں لوگ جان بچانے کی کوشش میں پناہ گزین ہو گئے تھے۔
گل پلازہ مارکیٹ کے چیئرمین تنویر پاستا نے بتایا کہ ملبے سے لاشوں کا انخلا تاحال جاری ہے اور لاشوں کی حالت انتہائی خراب ہونے کے باعث شناخت کا عمل مشکل ہو گیا ہے۔
ان کے مطابق ملبہ لے جانے والے تمام ڈمپرز کلیئر ہو چکے ہیں، تاہم سرچ آپریشن ابھی مکمل نہیں ہوا۔سانحے کے چھٹے روز بھی لاپتا افراد کے اہلِ خانہ جائے حادثہ پر موجود ہیں۔ ایک متاثرہ خاتون نے آبدیدہ آواز میں کہا کہ وہ صرف یہ چاہتی ہیں کہ ان کے پیارے کی لاش مل جائے تاکہ بے یقینی کا یہ کرب ختم ہو سکے۔دوسری جانب سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے گل پلازہ سے متصل رمپا پلازہ کو بھی غیر محفوظ قرار دے دیا ہے۔
ایس بی سی اے کے مطابق شدید آتشزدگی کے باعث رمپا پلازہ کے ستون متاثر ہوئے ہیں، جس پر عمارت کے خطرناک حصوں کے استعمال پر فوری پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ انتظامیہ اور دکان مالکان کو نوٹس جاری کر کے خبردار کیا گیا ہے کہ خلاف ورزی کی صورت میں سخت کارروائی کی جائے گی۔
ادھر گل پلازہ سانحے کی تحقیقات میں بھی پیش رفت ہوئی ہے۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے عمارت کا مکمل ریکارڈ کمشنر کراچی کو جمع کرا دیا ہے، جس میں 1992، 2015 اور 2021 سے متعلق تین زیر التواء عدالتی مقدمات سمیت خلاف ضابطہ تعمیرات اور منظوریوں کی تفصیلات شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان دستاویزات کی روشنی میں ذمہ داران کے تعین کے لیے مزید کارروائی کی جائے گی۔












