لاہور( پاک ترک نیوز) شدید گرمی میں ایئر کولر تو چل رہا ہوتا ہے، مگر کئی گھروں میں ٹھنڈک کے بجائے حبس اور گھٹن بڑھنے لگتی ہے۔لوگ شکایت کرتے ہیں کہ کولر کی ہوا نمی تو پیدا کرتی ہے مگر سکون نہیں دیتی آخر ایئر کولر حبس کیوں کرتا ہے؟ اور اس مسئلے سے بچنے کا آسان حل کیا ہے؟
ماہرین کے مطابق ایئر کولر دراصل پانی کی نمی کے ذریعے ہوا کو ٹھنڈا کرتا ہے۔۔ جب کولر مسلسل بند کمرے میں چلتا رہے اور تازہ ہوا کی آمدورفت نہ ہو تو کمرے میں نمی بڑھ جاتی ہے، جس سے حبس اور گھٹن محسوس ہونے لگتی ہے۔
خاص طور پر مون سون یا زیادہ نمی والے موسم میں کولر کی کارکردگی مزید متاثر ہوتی ہے کیونکہ فضا میں پہلے ہی نمی زیادہ موجود ہوتی ہے۔
کئی لوگ کولر چلاتے وقت تمام دروازے اور کھڑکیاں بند کر دیتے ہیں تاکہ ٹھنڈک باہر نہ جائے، لیکن یہی سب سے بڑی غلطی ہوتی ہے، بند کمرے میں نمی جمع ہوتی رہتی ہے اور ہوا بھاری محسوس ہونے لگتی ہے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ کولر ہمیشہ ایسے کمرے میں چلانا چاہیے جہاں مناسب وینٹی لیشن موجود ہو تاکہ نمی والی ہوا باہر نکلتی رہے اور تازہ ہوا اندر آتی رہے۔
ایئر کولر کے حبس کی ایک بڑی وجہ کولر کی صفائی نہ ہونا بھی ہے، اگر کولر کے پیڈز گندے ہوں، پانی بدبودار ہو یا موٹر کمزور ہو جائے تو کولر ٹھنڈی ہوا کے بجائے بوجھل اور مرطوب ہوا پھینکنے لگتا ہے۔اسی طرح اگر کولر براہِ راست سورج کی تپش میں رکھا ہو تو اس کی کولنگ بھی متاثر ہوتی ہے۔
ماہرین نے کولر سے بہتر ٹھنڈک حاصل کرنے کیلئے چند آسان احتیاطی تدابیر بھی بتائی ہیں۔۔۔کمرے کی ایک کھڑکی یا روشن دان ضرور کھلا رکھیں ،کولر کے پیڈز باقاعدگی سے صاف کریں ۔،روزانہ پانی تبدیل کریں ۔کولر کو سایہ دار جگہ پر رکھیں ۔نمی زیادہ ہونے پر کولر کے ساتھ پنکھا بھی استعمال کریں ماہرین کے مطابق درست استعمال سے ایئر کولر نہ صرف بہتر ٹھنڈک دیتا ہے بلکہ بجلی کی بچت بھی ممکن ہوتی ہے۔
گرمی کے موسم میں ایئر کولر ریلیف ضرور دیتا ہے، لیکن اگر استعمال درست نہ ہو تو یہی کولر حبس اور گھٹن کی وجہ بھی بن جاتا ہے۔۔۔ ماہرین کہتے ہیں کہ تھوڑی سی احتیاط اور مناسب وینٹی لیشن سے کولر کی ٹھنڈک کو زیادہ مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔










