لاہور( پاک ترک نیوز) پرفیوم اور عود کے نام پر کیا بک رہا ہے؟ خوشبو کی دنیا کا چھپا ہوا کاروبار بے نقاب ہو گیا۔ بازاروں میں سستی خوشبوؤں، مصنوعی کیمیکلز اور جعلی برانڈز کا کاروبار تیزی سے پھیلنے لگا، خریدار اکثر اصل اور نقل میں فرق نہیں کر پاتے۔
ماہرین کے مطابق اصلی عود دنیا کی مہنگی ترین خوشبوؤں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ مخصوص درختوں سے حاصل ہونے والی خوشبودار رال سے تیار کیا جاتا ہے، جس کی قیمت ہزاروں بلکہ لاکھوں روپے تک پہنچ سکتی ہے۔ تاہم مارکیٹ میں عود کے نام پر فروخت ہونے والی بہت سی مصنوعات درحقیقت مصنوعی خوشبوؤں، کیمیائی مرکبات اور سستے تیلوں کا مرکب ہوتی ہیں۔
اسی طرح معروف برانڈز کے نام پر فروخت ہونے والے متعدد پرفیوم بھی اصل نہیں ہوتے۔ بعض اوقات بوتل اور پیکنگ تو اصل جیسی ہوتی ہے لیکن اندر موجود خوشبو کم معیار کے کیمیکلز سے تیار کی جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق غیر معیاری پرفیوم جلدی الرجی، سانس کی تکلیف، سر درد اور جلد کی جلن کا باعث بن سکتے ہیں۔
خوشبو کی صنعت میں ایک اور رجحان انسپائرڈ یا کاپی پرفیومز کا ہے۔ یہ مصنوعات کسی معروف مہنگے پرفیوم کی خوشبو سے متاثر ہو کر بنائی جاتی ہیں، تاہم ان کا اصل برانڈ سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔بہت سے صارفین کم قیمت کی وجہ سے ایسی مصنوعات خریدتے ہیں لیکن اکثر انہیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ اصل خوشبو نہیں بلکہ اس کی نقل استعمال کر رہے ہیں۔
ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ پرفیوم یا عود خریدتے وقت مستند دکانوں اور معروف فروخت کنندگان کو ترجیح دی جائے۔ پیکنگ، بیچ نمبر، خوشبو کے دیرپا اثر اور قیمت پر بھی توجہ دینا ضروری ہے کیونکہ غیر معمولی کم قیمت اکثر جعلی یا کم معیار کی مصنوعات کی نشاندہی کرتی ہے۔
خوشبو انسان کی شخصیت کو نکھارتی ہے، لیکن اصل اور نقل میں فرق جاننا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ بازار میں پرفیوم اور عود کے نام پر بہت کچھ فروخت ہو رہا ہے، مگر ہر چمکتی بوتل سونے جیسی نہیں ہوتی۔ اس لیے خریداری سے پہلے تحقیق اور احتیاط ہی بہترین خوشبو کا انتخاب یقینی بنا سکتی ہے۔







