تہران ( پاک ترک نیوز) دوحا میں امریکا، ایران مذاکرات پر بڑا کنفیوژن۔ امریکا نے آج مذاکرات کی تصدیق کر دی، ایران نے صاف انکار کر دیا۔وائٹ ہاؤس نے دعویٰ کیا اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر دوحا پہنچیں گے، ایران کا مؤقف: آج کوئی مذاکرات طے نہیں۔
کیا آج دوحا میں امریکا اور ایران کے درمیان ایک اور اہم سفارتی معرکہ سجنے جا رہا ہے؟ ایک جانب واشنگٹن مذاکرات کی تصدیق کر رہا ہے، جبکہ دوسری جانب تہران صاف انکار کر رہا ہے۔ متضاد بیانات نے عالمی سفارتی حلقوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے، اور سب کی نظریں قطر کے دارالحکومت دوحا پر جم گئی ہیں۔
امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ کے مطابق امریکی نمائندہ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر دوحا میں ہونے والے مذاکرات میں شریک ہوں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا جنگ بندی کے مؤقف پر قائم ہے، تاہم کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
دوسری جانب ایران نے امریکی دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ آج امریکا کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات شیڈول نہیں ہیں۔ ان کے مطابق ایرانی وفد رواں ہفتے قطر ضرور جائے گا، لیکن اس کا امریکی حکام کے دورے یا کسی مذاکرات سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ وفد کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان طے شدہ مفاہمتی یادداشت کی شقوں پر عمل درآمد کا جائزہ لینا ہے۔
اس تمام صورتحال کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دوحا میں ہونے والا اجلاس اہم ثابت ہو سکتا ہے، تاہم حتمی نتائج کا انتظار کرنا ہوگا۔ ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکا ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دے گا اور واشنگٹن کا مقصد ایران کی مکمل ڈی نیوکلیئرائزیشن ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایران بھی جوہری ہتھیار نہ رکھنے پر آمادہ ہے۔
ادھر امریکی انتظامیہ نے ایران کے ساتھ مذاکرات اور حالیہ پیش رفت پر کانگریس کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اعلیٰ حکام آج قانون سازوں کو ممکنہ معاہدے اور مفاہمتی یادداشت پر تفصیلی بریفنگ دیں گے۔ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد یہ پہلا موقع ہوگا جب امریکی انتظامیہ وسیع پیمانے پر کانگریس کو اعتماد میں لے رہی ہے۔ اس بریفنگ کا مقصد اندرون ملک سیاسی دباؤ کو کم کرنا بتایا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دوحا میں آج امریکا اور ایران کے مذاکرات ہوں گےیا نہیں؟
دوسری طرف ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی واضح پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ مفاہمت ہمیشہ دوطرفہ عمل ہوتی ہے۔ اگر امریکا مفاہمتی یادداشت پر عمل کرے گا تو ایران بھی اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کرے گا۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ غیر معقول شیخی بگھارنے اور بے بنیاد دھمکیوں کے مقابلے میں ایران کا مؤقف واضح ہے۔ فیصلے عقل، دانش اور انسانی وقار کی بنیاد پر کیے جائیں گے، جبکہ عملی اقدامات کے وقت ایران فیصلہ کن اور بے خوف دفاع کرے گا۔
دوحا میں مذاکرات ہوں گے یا نہیں؟ اس سوال کا جواب ابھی تک واضح نہیں۔ امریکا مذاکرات کی تصدیق کر رہا ہے، ایران انکار کر رہا ہے، جبکہ عالمی برادری کی نظریں قطر پر مرکوز ہیں۔ اگر دونوں ممالک ایک ہی میز پر آ گئے تو یہ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست اور ایران کے جوہری پروگرام کے مستقبل کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔












