انقرہ ( پاک ترک نیوز) ترکیہ نے ایک نئی بغیر عملے والی آبدوز کا تصور پیش کیا ہے جو پانی کے اندر رہتے ہوئے ایف پی وی ڈرونز کے جھنڈ، اینٹی شپ میزائل، ٹارپیڈوز اور بارودی سرنگیں لانچ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ پوری آبدوز ایک معیاری شپنگ کنٹینر میں منتقل کی جا سکتی ہے۔
ترکیہ کی دفاعی صنعت پہلے ہی اپنے مشہور ڈرون بائراکتار ٹی بی 2 کی بدولت عالمی شہرت حاصل کر چکی ہے، جسے ناگورنو کاراباخ سے لے کر یوکرین تک مختلف جنگی محاذوں پر مؤثر قرار دیا گیا۔ اس کے بنانے والی کمپنی ممالک کے ساتھ برآمدی معاہدے کر چکی ہے۔
نئی آبدوز "سینارت” کیا ہے؟ استنبول میں منعقد ہونے والی ساہا ایکسپو دو ہزار چھبیس کے دوران سینارت نامی ایک 19.8 ٹن وزنی بغیر عملے والی آبدوز کا ماڈل پیش کیا گیا۔
سینارت ابھی صرف ایک تصوراتی ڈیزائن ہے۔ کمپنی نے نمائش میں صرف ماڈل اور کمپیوٹر گرافکس پیش کیے، جبکہ اس کی تمام صلاحیتیں مستقبل کے منصوبے کا حصہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بالٹک سمندر میں زیرِ آب جنگ کا نیا محاذ،امریکی ڈرونز کا گشت
اس آبدوز میں تقریباً 3.8 میٹر لمبا قابلِ تبدیلی کارگو سیکشن ہوگا، جسے مختلف مشنز کے مطابق تبدیل کیا جا سکے گا۔ کمپنی کے مطابق اس میں 12 مختلف قسم کے پے لوڈ نصب کیے جا سکیں گے، جن میں: جاسوسی اور نگرانی کے آلات ،بارودی سرنگیں بچھانے کے نظام شامل ہو گا۔اینٹی شپ میزائل ۔زمینی اہداف پر حملہ آور میزائل ،ایف پی وی خودکش ڈرونز شامل بھی شامل ہوں گے۔
کمپنی کے مطابق آبدوز پانی کی سطح کے نیچے سے ایف پی وی ڈرونز بھی چھوڑ سکے گی، جو دشمن کے دفاعی نظام کے لیے ایک نیا چیلنج بن سکتے ہیں۔آبدوز کی لمبارئی ساڑھے گیارہ میٹر ،وزن انیس اعشاریہ آٹھ ٹن ہے ،اس کی رفتار سطح پر بارہ نائٹس ،زیر آب رفتار آٹھ ناٹس ہو گی ،زیادہ سے زیادہ سو میٹر گہرائی میں آپریشنل ہو تی ہے۔یہ ڈیزل الیکٹرک نظام پر کام کرے گی اور طویل خودکار مشنز انجام دے سکے گی۔
سینارت کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا سائز ہے۔ اسے اس انداز میں ڈیزائن کیا گیا ہے کہ پوری آبدوز ایک معیاری شپنگ کنٹینر میں سما جائےاس کے مقابلے میں امریکی بحریہ کی آبدوز تقریباً 85 فٹ لمبی اور 80 ٹن وزنی ہے۔
کمپنی کا دعویٰ ہے کہ پانی میں غوطہ زن رہنے کے باعث سینارت کو ریڈار سے پکڑنا ممکن نہیں ہوگا جبکہ سیٹلائٹ بھی اسے آسانی سے نہیں دیکھ سکیں گے۔












