
از: سہیل شہریار
بجٹ کا موسم آتے ہی ہر شعبہ زندگی سے اپنے اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے بجٹ تجاویز کی آمد کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ان میں دو پہلو نمایاں ہوتے ہیں ٹیکس میں چھوٹ اور مالی سہولیات ۔ حالانکہ پاکستان کے مالیاتی نظام میں جس کی اشد ضرورت ہے وہ ٹیکس نظام بنیادی اصلاحات ہیں۔جن کے نہ ہونے کی وجہ سے آج پاکستان کے ٹیکس نطام کو ایشیا کا بدترین۔ دوغلا ، استحصالی اورترقی کا مخالف نظام گردانا جاتا ہے۔
پاکستان کے ٹیکس نظام پر اپنی تین برس قبل جاری ہونے والی تفصیلی رپورٹ میں عالمی بینک نے درست طور پر نشاندہی کر رکھی ہے کہ پاکستان کا ٹیکس نظام منفرد طور پر رجعت پسند ہے۔ غریب ترین گھرانے، اپنی آمدنی کے لحاظ سے، معاشرے کے امیر ترین طبقوں کے مقابلے میں زیادہ ٹیکس کا بوجھ برداشت کرتے ہیں۔ یہ پاکستان کے موجودہ ٹیکس ماڈلپر عائد کی گئی سب سے بڑی فرد جرم ہے۔ ایک ایسا ملک جہاں کھپت، بجلی، ایندھن، موبائل کے استعمال اور بینکنگ لین دین پر بالواسطہ ٹیکس کا غلبہ ہو صرف اس وجہ سے مالی انصاف کا دعویٰ نہیں کر سکتا کہ برائے نام انکم ٹیکس کی شرح کاغذ پر ترقی پسند دکھائی دیتی ہے۔
چنانچہ اس ڈھانچہ جاتی عدم مساوات کو عام شہریوں کے مقابلے میں اشرافیہ کے ریاستی عہدے داروں پر عائد ٹیکس سے بہتر کوئی چیز واضح نہیں کرتی۔ اعلیٰ عدلیہ کے ایک جج صاحب کی ماہانہ تنخواہ 6لاکھ 90ہزار روپے ہے اور وہ اخراجات اور مراعات کی کٹوتی کے بعد 62ہزار روپے انکم ٹیکس ادا کرتے ہیں ۔جبکہ اتنی ہی ماہانہ تنخواہ لینے والے نجی شعبے کے ملازم کو ۱یک لاکھ73ہزار روپے انکم ٹیکس تنخواۃ لینے سے پہلے کٹوانا پڑتا ہے۔
اسی طرح ایک موٹر سائیکل سوار بھی قطع نظر اسکے کہ اسکی آمدن کیا ہے۔ پیٹرول کے ہر لیٹر کی خریدپر پٹرولیم لیوی کی صورت میں 117.5روپے فی لیٹر بالواسطہ ٹیکس ادا کرتا ہے۔اور حکومت نے پارلیمان کو آگاہ کیا ہے کہ اس نے رواں مالی سال کے پہلے 10 ماہ جولائی 2025 تا اپریل 2026 کے دوران 13.4 کھرب روپے پیٹرولیم لیوی کی مد میں اکٹھے کیے ہیں۔
تکلیف دہ امر یہ ہے کہ یہ سب کچھ اتفاقیہ یا لاعلمی سے نہیں ہوتا۔ بلکہ پاکستان کا جابرانہ ٹیکس ڈھانچہ ایک ایسے نظام کی شکل اختیار کر چکا ہے جہاں سیاسی طور پر بااثر اور آئینی طور پر محفوظ گروہ ترجیحی سلوک سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ جبکہ انکی موج مستی کا سارا بوجھ یوٹیلیٹیز، ایندھن اور دستاویزشدہ نجی شعبے کی آمدنی پر ڈال دیا جاتا ہے۔
چنانچہ کوئی بھی سنجیدہ مالیاتی اصلاحات اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتیں جب تک یہ دوغلا پن ختم نہیں ہوتا۔ ٹیکس کا نظام اخلاقی جواز کھو دیتا ہے جب آئینی مساوات کا فیصلہ کرنے والے خود مالی عدم مساوات سے مستفید ہورہےہوں۔ مطلب یہ کہ مسئلہ محض کم آمدنی کا نہیں ہے۔ یہ مالیاتی ڈھانچے کے اندر ساختی خرابی کا ہے۔ جب تک ریاستیسطح پرمراعات یافتہ طبقات کے لئے استثنیٰ اور ترجیحی سلوک کو ختم نہیں کیا جاتا۔ تب تک بالواسطہ ٹیکسوں اور پیٹرولیم لیویز کے ذریعے محصولات بڑھانے کی کوششیں معاشی ناانصافی اور عوامی عدم اعتماد کو مزید گہرا کرتی رہیں گی۔
آج پاکستان میں ایک ترقی کا مخالف اور ۔۔۔۔ نطام چکایا جا رہا ہے۔ آج ملک میں ایف بی آر متعدد صوبائی ریونیو اتھارٹیز، اوور لیپنگ ایجنسیاں، مختلف تعریفیں، متضاد قوانین، مسابقتی دائرہ اختیار، اور بار بار قانون سازی کے ذریعے ترامیم کا جم گھٹا سب ایک ساتھ موجود ہیں۔
عالمی بنک نے درست نشاندہی کی ہے کہ پاکستان میں بارہ صوبائی ریونیو اداروں کے ساتھ وفاق کی سطح پر ایف بی آر بھی موجود ہے۔ اور یہ سب ملکر عام آدمی پر محصولات کے بوجھ کو کئی گنا بڑھا دیتے ہیں۔ اس لئے آنے والے مالی سال کے بجٹ کو ٹیکس ومحصولات کی شرحوں میں اضافے کی ایک اور مشق نہیں بننا چاہیے۔ پاکستان پہلے ہی اس دہلیز کو عبور کر چکا ہے جہاں حد سے زیادہ ٹیکس لگانے سے سرمایہ کاری، برآمدات اور رسمی عمل کو دبایا جاتا ہے۔ اگر ملک میں ٹیکسوں اورمحصولات کی وصولیوں میں پائیدار اضافہ یقینی بنانا ہے تو وفاق اور صوبوں کے ٹیکسوں کو ہم آہنگ کرنا ہو گا۔زرعی انکم ٹیکس کو پورے طور پر نافذ کر نا ہوگا، ٹیکسوں اور محصولات میں ہر طرح کی چھوٹ ختم کرنا ہوگی۔ اور سب سے اہم ٹیکس رجیم کو قابل اعتماد اور عام فہم بنا کر اس کی تعمیل کو آسان بنانا ہو گا۔












