بیجنگ ( پاک ترک نیوز) چین سمندر کے وسط میں تقریباً 20 مربع کلومیٹر پر محیط ایک مصنوعی جزیرہ تعمیر کر رہا ہے، جہاں دنیا کا سب سے بڑا آف شور ایئرپورٹ بنایا جا رہ اہے ، 4.3 ارب ڈالر مالیت کا یہ عظیم منصوبہ 2035 تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔
یہ ایئرپورٹ بحیرہ بوہائی میں جنژو بے کے مقام پر تعمیر کیا جا رہا ہے، جو صوبہ لیاؤننگ کے شہر ڈایلیان سے تقریباً ساڑھے چار کلومیٹر دور واقع ہے۔ منصوبے کی بنیاد سمندر کی تہہ میں چٹانوں تک پہنچنے والے 3 ہزار سے زائد مضبوط ستونوں پر رکھی جا رہی ہے۔ ہر ستون 80 میٹر سے زیادہ گہرائی تک نصب کیا جا رہا ہے، جو عام زمینی ایئرپورٹ کی بنیادوں سے تقریباً تین گنا زیادہ ہے۔
منصوبے کے لیے اب تک 18 کروڑ 70 لاکھ مکعب میٹر سے زائد مٹی اور بھرائی کا کام کیا جا چکا ہے۔ تکمیل کے بعد یہ ایئرپورٹ سمندر میں تعمیر کیے گئے دنیا کے دو بڑے ہوائی اڈوں کانسائی ایئر پورٹ اور ہانگ کانگ انٹرنیشنل ایئر پورٹ سے بھی بڑا ہوگا۔
چین نے زمین کی کمی کے مسئلے کا منفرد حل نکالتے ہوئے سمندر سے نئی زمین حاصل کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ دنیا کے جدید ترین اور بڑے ہوائی اڈوں میں سے ایک تعمیر کیا جا سکے۔
ڈالیان ایئر پورٹ کی ضرورت اس وقت پیش آئی جب موجود دالیان ژوشوئی زی بین الاقوامی ہوائی اڈہ اپنی گنجائش کی آخری حد تک پہنچ گیا۔ تقریباً ایک صدی قبل جاپانی قبضے کے دور میں تعمیر ہونے والا یہ ایئرپورٹ کئی توسیعات کے باوجود اب مزید وسعت اختیار نہیں کر سکتا کیونکہ اس کے اردگرد پہاڑ اور شہری آبادیاں موجود ہیں جبکہ یہ صرف ایک رن وے پر کام کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شہر کی ترقی اور بڑھتی فضائی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے چین نے سمندر کے درمیان ایک نیا مصنوعی جزیرہ تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا۔












