ابوظبی ( پاک ترک نیوز) چین کی معروف کمپنی بی وائی ڈی نے ابو ظہبی میں دنیا کے سب سے بڑے سولر پلس انرجی اسٹوریج منصوبے کے لیے 11.275 گیگاواٹ آور بیٹری اسٹوریج فراہم کرنے کا معاہدہ حاصل کر لیا۔
یہ منصوبہ مصدر اور ایمریٹس واٹر اینڈ الیکٹرک کمپنی کی جانب سے ابوظبی میں تعمیر کیا جا رہا ہے، جہاں 5.2 گیگاواٹ شمسی توانائی کے پلانٹ کو 19 گیگاواٹ آور بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم کے ساتھ منسلک کیا جائے گا۔ اسے دنیا کا سب سے بڑا مشترکہ سولر + بیٹری اسٹوریج منصوبہ قرار دیا جا رہا ہے۔
بی وائی ڈی اس منصوبے کے لیے 1,644 میگاواٹ / 11,275 میگاواٹ آور صلاحیت کا بیٹری اسٹیشن فراہم کرے گی، جو کمپنی کے جدید ہاؤہان انرجی اسٹوریج سسٹم پر مبنی ہوگا۔ یہ واحد بیٹری اسٹیشن کئی ممالک کی مجموعی گرڈ اسٹوریج صلاحیت سے بھی زیادہ توانائی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس منصوبے کا مقصد پہلی بار گیگاواٹ سطح پر 24 گھنٹے مسلسل صاف توانائی کی فراہمی کو ممکن بنانا ہے، تاکہ شمسی توانائی کی پیداوار دن اور رات دونوں اوقات میں بلا تعطل جاری رہ سکے۔
منصوبے میں 19 گیگاواٹ آور بیٹری اسٹوریج کا پورا ٹھیکہ چینی کمپنیوں کو ملا ہے۔ بی وائی ڈی کے علاوہ سنگرو پہلے ہی 7.5 گیگاواٹ آور اسٹوریج سسٹم فراہم کرنے کا معاہدہ حاصل کر چکی ہے۔ اس طرح دنیا کے اس فلیگ شپ منصوبے میں مغربی بیٹری ساز کمپنیوں کو کوئی حصہ نہیں ملا۔
یو بنی پڑھیں: چینی کمپنی کی پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری میں دلچسپی
بی وائی ڈی کا کہنا ہے کہ اس کا 2,710 ایمپیئر آور بلیڈ بیٹری سسٹم پرانی گرڈ اسٹوریج بیٹریوں کے مقابلے میں تین گنا سے زیادہ گنجائش فراہم کرتا ہے۔ کم بیٹری سیلز استعمال ہونے سے نظام کی پیچیدگی کم ہوتی ہے، جبکہ ہر 20 فٹ کنٹینر میں 10 میگاواٹ آور تک توانائی ذخیرہ کی جا سکتی ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ نظام منفی 30 سے 55 ڈگری سینٹی گریڈ تک درجہ حرارت میں مؤثر طریقے سے کام کر سکتا ہے، جو خلیجی خطے کے سخت موسمی حالات کے لیے موزوں ہے۔












