لاہور( پاک ترک نیوز) برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے موٹاپا کم کرنے والی مشہور ادویات کے کام کرنے کے طریقۂ کار سے متعلق ایک اہم معمہ حل کر لیا ہے، جس سے مستقبل میں زیادہ مؤثر علاج تیار کرنے کی امید پیدا ہو گئی ۔
سائنسی جریدے نیچر میٹابولزم میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق سائنسدانوں نے چوہوں پر کیے گئے تجربات میں دریافت کیا کہ دماغ میں موجود ایک خاص پروٹین پر اثر ڈالنے سے، چاہے اسے فعال کیا جائے یا اس کی سرگرمی روکی جائے، دونوں صورتوں میں وزن کم کیا جا سکتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ یہ عمل دماغ کے مختلف حصوں میں مختلف انداز سے کام کرتا ہے۔
تحقیق کے مطابق دماغ کے نچلے حصے میں موجود یہ پروٹین فعال ہونے سے بھوک کم ہو جاتی ہے، جبکہ دماغ کے اس حصے میں جہاں بھوک اور جسمانی وزن کو کنٹرول کیا جاتا ہے، اسی پروٹین کی سرگرمی روکنے سے بھی بھوک میں کمی آتی ہے کیونکہ اس سے جسم کے پیٹ بھرنے کے اشاروں پر ردعمل بہتر ہو جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں ایک ارب سے زیادہ افراد موٹاپے کا شکار ہیں، جس کی وجہ سے ذیابیطس، دل کی بیماریوں اور بعض اقسام کے سرطان کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ وزن کم کرنے کے لیے استعمال ہونے والی موجودہ ادویات دماغ میں موجود مختلف پروٹینز پر اثر ڈال کر بھوک کو کم کرتی ہیں، جبکہ نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اگر مختلف طریقۂ کار والی ادویات کو ملا کر استعمال کیا جائے تو ان کے نتائج مزید بہتر ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جگر کی خطرناک بیماری کی نئی دوا تیار
سائنسدانوں نے جینیاتی طور پر تبدیل کیے گئے چوہوں پر مختلف ادویات آزما کر خوراک، جسمانی وزن، جسم میں چربی، خون میں شکر کی مقدار اور دماغی سرگرمی کا جائزہ لیا، جس سے یہ واضح ہوا کہ مختلف ادویات دماغ کے الگ الگ حصوں پر اثر انداز ہو کر وزن کم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں موٹاپے کے علاج کے لیے زیادہ مؤثر اور بہتر ادویات تیار کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔












