اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) پاکستان کی معیشت پر ایک اور خطرے کی گھنٹی بج گئی۔۔۔ آئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے کہ مہنگائی دوبارہ سر اٹھا سکتی ہے اور اسٹیٹ بینک کو شرح سود بڑھانے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔
آئی ایم ایف کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی، تیل اور اشیائے ضروریہ کی بڑھتی قیمتیں پاکستان میں نئے مہنگائی طوفان کا سبب بن سکتی ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ مارچ 2026 میں پاکستان میں مہنگائی کی شرح بڑھ کر 7.3 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ بنیادی مہنگائی تقریباً 7.6 فیصد رہی۔آئی ایم ایف نے اندازہ لگایا ہے کہ مالی سال 2026 میں اوسط مہنگائی 7.2 فیصد اور مالی سال 2027 میں 8.4 فیصد رہ سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ بینک نے شرح سود دس اعشاریہ پانچ فیصد پر برقرار رکھی ہوئی ہے، لیکن اگر مہنگائی مزید بڑھی تو شرح سود میں دوبارہ اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
آئی ایم ایف نے خبردار کیا کہ عالمی منڈی میں تیل اور خوراک مہنگی ہونے سے پاکستان میں بجلی، ایندھن اور روزمرہ اشیا مزید مہنگی ہو سکتی ہیں۔ اسٹیٹ بینک کو عالمی منڈی میں بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات پر مسلسل نظر رکھنی چاہیے، خاص طور پر توانائی، اجرتوں اور مہنگائی کی توقعات پر۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر سولہ ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں جبکہ ڈالر کے مقابلے میں روپیہ تقریباً دو سو اسی روپے پر مستحکم ہے۔ پاکستانی روپے کی قدر میں لچک برقرار رکھنا ضروری ہے تاکہ معیشت بیرونی جھٹکوں کا مقابلہ کر سکے۔
آئی ایم ایف نے حکومت کو معاشی اصلاحات تیز کرنے، فارن ایکسچینج مارکیٹ کو بہتر بنانے اور مالیاتی نظام کو مضبوط کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔
مہنگائی، شرح سود اور عالمی کشیدگی۔۔۔ پاکستان کی معیشت ایک بار پھر دباؤ میں دکھائی دے رہی ہے اور عوام کو خدشہ ہے کہ آنے والے دن مزید مہنگے ثابت ہو سکتے ہیں۔












