اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) نیب قانون میں ترمیم کے بعد نیب مقدمات کونسی عدالت میں زیر سماعت آئیں گے؟۔۔سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت مکمل کر کے فیصلہ محفوظ کر لیا ۔جسٹس محمد علی مظہر نے کہا ایک دو دن میں فیصلہ سنا دیں گے۔
،سماعت کے دوران وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے سامنے ترامیم میں غلطی تسلیم کرلی،اٹارنی جنرل نے کہا ہائیکورٹ کے بعد اپیلیں تو وفاقی آئینی عدالت جانی ہیں ،ضمانت کے کیسز وفاقی آئینی عدالت کے دائرہ اختیار میں رکھنے سے متعلق ایکٹ میں نہیں لکھ سکے، نیب قانون میں ترمیم کے وقت یہ اہم نقظہ نظر انداز ہو گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں غربت کی شرح 28.9 فیصد تک پہنچ ،عالمی ادارہ خوراک
درخواست گزار کے وکیل عبدالرحمان لودھی نے کہا ہائیکورٹ کے حتمی فیصلہ کیخلاف اپیل آئینی عدالت جائے گی،ہائیکورٹ سے ضمانت نہ ملنے پر کیس سپریم کورٹ سنے گی،نیب قانون میں سیکشن 32 اے کا اطلاق ضمانت کے کیسز پر نہیں ہوتا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا ملزم کو ضمانت دینے پر درخواست کو اپیل میں تبدیل کیا جاتا ہے،سپریم کورٹ ضمانت کی درخواست کو اپیل میں تبدیل کرے تو اپیلیٹ فورم بن جائے گی۔نیب قانون کے مطابق اپیلیٹ فورم وفاقی آئینی عدالت ہے، ضمانت کیسز میں سپریم کورٹ اپیلیٹ اتھارٹی کیسے بن سکتی ہے؟سپریم کورٹ ضمانت کے کیسز کیسے سنے اس کیلئے قانونی راستہ دکھائیں،
وکیل نے دلائل دیئے خدا کیلئے ایگزیکٹو کے خفیہ مقاصد کیلئے سپریم کورٹ اپنا اختیار سرنڈر نہ کرے، سپریم کورٹ کا کوئی تو اختیار تو رہنے دیں، قانون نے ضمانت سننے کا اختیار وفاقی عدالت کو نہیں دیا۔












