لاہور( پاک ترک نیوز) دنیا ایک بار پھر ایٹمی کشیدگی کے سائے میں آ گئی؟ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے ایسا بیان دے دیا ہے جس نے عالمی طاقتوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔
شمالی کوریا کے سرکاری خبر رساں ادارے کے سی این اے کے مطابق حکمران ورکرز پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کم جونگ اُن نے اعلان کیا کہ موجودہ عالمی حالات میں ملک کی جوہری صلاحیت کو مزید مضبوط بنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور غیر یقینی سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر شمالی کوریا کو ایک طاقتور جوہری ریاست کے طور پر اپنی دفاعی صلاحیتوں میں مزید اضافہ کرنا ہوگا۔
کم جونگ اُن نے امریکا اور جنوبی کوریا پر خطے میں تناؤ بڑھانے کا الزام عائد کرتے ہوئے فوج کو جدید ہتھیاروں سے لیس کرنے، جوہری پروگرام کو وسعت دینے اور نئے جنگی سازوسامان کی تیاری تیز کرنے کی ہدایات جاری کر دیں۔
شمالی کوریائی رہنما نے عالمی طاقتوں کی پالیسیوں پر بھی شدید تنقید کی اور دعویٰ کیا کہ بعض طاقتور ممالک کی بالادستی کی خواہش دنیا کے مختلف خطوں میں تنازعات اور خونریزی کو ہوا دے رہی ہے۔ انہوں نے یورپ اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کا ذمہ دار بھی امریکا کو قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: شمالی کوریا نے نیامیزائل بنا لیا ،خطرناک ٹیکنالوجی ،ایٹمی خطرہ؟
رپورٹ کے مطابق کم جونگ اُن نے واضح کیا کہ جوہری قوت میں مسلسل اضافہ اور جدید ایٹمی صلاحیتوں کی ترقی ہی موجودہ بین الاقوامی سیاسی اور فوجی حالات کا مؤثر جواب ہے۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے روایتی فوجی طاقت بڑھانے اور 10 ہزار ٹن وزنی اسٹریٹجک گائیڈڈ میزائل کروزر کی تعمیر کے منصوبے کو بھی تیز کرنے کا حکم دیا ہے۔
کم جونگ اُن کے اس اعلان کے بعد ایک بار پھر سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا دنیا نئی ایٹمی کشیدگی کی طرف بڑھ رہی ہے، یا یہ صرف طاقت کے اظہار کی ایک نئی حکمت عملی ہے؟










