جدہ ( پاک ترک نیوز) سعودی عرب کی کابینہ نے غیر ملکیوں کو جائیداد کی ملکیت دینے کے قانون کے ایگزیکٹو ریگولیشنز اور ان جغرافیائی علاقوں کی منظوری دے دی ہے جہاں غیر سعودی شہری جائیداد خرید سکیں گے۔ یہ فیصلہ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی زیر صدارت جدہ میں ہونے والے کابینہ اجلاس میں کیا گیا۔
اس سال جنوری میں نافذ ہونے والے نئے قانون کے تحت غیر ملکی افراد اور کمپنیاں سعودی عرب میں رہائشی، تجارتی، زرعی اور صنعتی جائیدادوں کی ملکیت حاصل کر سکتی ہیں، بشرطیکہ متعلقہ حکام سے منظوری لی جائے اور مقررہ ضوابط پر عمل کیا جائے۔
نئے قانون کے مطابق سعودی عرب میں کام کرنے والی غیر ملکی کمپنیوں کو اپنی کاروباری ضروریات کے لیے دفاتر، فیکٹریاں، گودام اور دیگر جائیدادیں خریدنے کا حق حاصل ہوگا، تاہم اس کے لیے ان کے پاس باضابطہ لائسنس ہونا ضروری ہے۔
اجلاس کے بعد سعودی وزیر اطلاعات سلمان الدوسری نے بتایا کہ کابینہ نے خطے اور دنیا میں امن و استحکام کے قیام کے لیے سعودی عرب کے مستقل مؤقف کا اعادہ کیا۔ کابینہ نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر متاثرین کی مدد اور عالمی سطح پر امدادی سرگرمیوں کے تسلسل پر بھی زور دیا۔
کابینہ کو ولی عہد محمد بن سلمان سے اہم سفارتی رابطوں کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا،اجلاس میں وزیراعظم شہبازشریف اور بحرین کے فرما نروا حامد بن عیسیٰ الخلیفہ سے ٹیلیفونک گفتگو کا جائزہ لیا گیا
سعودی کابینہ نے وژن 2030 کے تحت حاصل ہونے والی کامیابیوں کا جائزہ لیا اور عالمی درجہ بندیوں میں سعودی عرب کی نمایاں پیش رفت کو سراہا۔
یہ بھی پڑھیں: گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کیسے حاصل کریں؟
کابینہ نے ورلڈ کمپیٹیٹیونس ایئر بک 2026 میں سعودی عرب کے دنیا میں 13ویں اور جی 20 ممالک میں تیسرے نمبر پر آنے کو اہم کامیابی قرار دیا۔ سعودی عرب 74 ذیلی اشاریوں میں دنیا کے ٹاپ 10 ممالک میں شامل رہا۔
کابینہ نے مسلسل تیسرے سال گلوبل سائبر سیکیورٹی انڈیکس میں سعودی عرب کی پہلی پوزیشن برقرار رہنے پر بھی اطمینان کا اظہار کیا اور اسے ڈیجیٹل تبدیلی، جدید ٹیکنالوجی کے فروغ اور بین الاقوامی شراکت داریوں کا نتیجہ قرار دیا۔
سعودی کابینہ نے سعودی عرب اور مصر کے درمیان پہلے مشترکہ سیٹلائٹ کی ڈیزائننگ اور تعمیر کے منصوبے کی منظوری بھی دی، جسے خلائی تعاون کے میدان میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
اجلاس میں سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان فضائی خدمات کے شعبے میں ایک اہم معاہدے کی بھی منظوری دی گئی۔ اس معاہدے سے دونوں ممالک کے درمیان فضائی روابط، مسافروں کی سہولت اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔
اس کے علاوہ امریکہ کے ساتھ تعلیم و تربیت کے شعبے میں مفاہمتی یادداشت اور عمان کے ساتھ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار اور کاروباری مواقع کے فروغ کے لیے تعاون کی بھی منظوری دی گئی۔












