لاہور( پاک ترک نیوز) مفت بجلی کا کھیل ختم ،اشرافیہ پر ضرب کاری ،عدالت نے سب کچھ بدل دیا ، برسوں سے مفت بجلی لینے والے افسران اب بجلی کا بل دیں گے ، مفت یونٹس ختم کر دیئے گئے۔کیا یہ واقعی عوام کی جیت ہے؟ یا کہانی ابھی باقی ہے؟
بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے ملازمین کی موجیں ختم ہو گئیں ،لاہور ہائی کورٹ نے مفت بجلی کی سہولت ختم کرنے کا حکومتی فیصلے کے حق میں فیصلہ سنا دیا ،وہ سہولت جو برسوں سے خاموشی سے چل رہی تھی،وہ سب کچھ ایک ہی فیصلے سے ختم ہو گی ،کیا واقعی اب طاقتور افسران بھی عام شہری کی طرح بجلی کا بل دیں گے؟
کھیل بدل گیا ، فیصلہ آ گیا ،لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے سے ملک بھر کے بجلی کی تقسیم کار کمپنوں کےملازمین میں ہلچل مچ گئی ۔لاہور ہائیکورٹ نے بڑا اور اہم فیصلہ سناتے ہوئے گریڈ 17 سے 22 تک کے افسران کو ملنے والے مفت بجلی یونٹس ختم کرنا مکمل طور پر درست قرار دے دیا۔
ان افسران کو ہر ماہ 450 سے لے کر 1300 یونٹس تک مفت بجلی فراہم کی جا رہی تھی، جس پر عوام کی جانب سے شدید اعتراضات سامنے آتے رہے۔عدالت نے فیصلے میں لکھا مفت بجلی یونٹس کوئی آئینی یا قانونی حق نہیں بلکہ صرف ایک سہولت تھی، جسے حکومت جب چاہے ختم کر سکتی ہے۔واپڈا، ڈسکوز، جینکوز، این ٹی ڈی سی اور پی آئی ٹی سی جیسے ادارے چونکہ حکومتی ملکیت ہیں، اس لیے حکومت کو مکمل اختیار حاصل ہے کہ وہ ان کے لیے پالیسیاں بنائے یا تبدیل کرے۔پالیسی معاملات میں مداخلت کرنا عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا، اور جب تک کوئی فیصلہ آئین کے خلاف نہ ہو، اسے چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔مفت یونٹس ختم کرنے سے افسران کو کوئی مالی نقصان نہیں ہوا، اور نہ ہی ان کی تنخواہ یا ملازمت متاثر ہوئی ہے۔
وفاقی وزیر توانائی نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے کہتے ہیں مفت بجلی یونٹس اب ماضی کا قصہ بن چکے ہیں،یہ عوام کا دیرینہ مطالبہ تھا، جسے موجودہ حکومت نے پورا کر دیا ہے، اور یہ ملکی معیشت کی بہتری کی طرف ایک بڑا قدم ہے۔ملک کو درپیش مالی خسارے کو کم کرنے کے لیے ایسے سخت مگر ضروری فیصلے کرنا ناگزیر ہو چکے ہیں۔
عدالتی فیصلے کے بعد واقعی عوام کےلیے ریلیف ثابت ہو گا ،یا عوام کو اسی طرح مہنگی بجلی ملتی رہے گی ،اس کا فیصلہ آںے والا وقت کرے گا۔












