میر پور ( پاک ترک نیوز) آزاد کشمیر میں انتخابی دنگل سج گیا۔۔ میرپور ڈویژن کے تین اضلاع میرپور، کوٹلی اور بھمبر میں پہلے مرحلے کی پولنگ جاری ہے۔۔۔ تیرہ حلقوں میں ووٹرز اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کر رہے ہیں۔۔۔ دوسری جانب کوٹلی میں ضابطہ اخلاق کی مبینہ خلاف ورزی اور دھاندلی کے الزامات نے انتخابی ماحول کو مزید گرم کر دیا ہے۔
آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے پہلے مرحلے کے انتخابات کے لیے میرپور ڈویژن کے اضلاع میرپور، کوٹلی اور بھمبر میں پولنگ صبح سے جاری ہے جو شام پانچ بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہے گی۔ ضلع میرپور کی چار، بھمبر کی تین اور کوٹلی کی چھ نشستوں پر مجموعی طور پر دو سو ستاسی امیدوار میدان میں ہیں، جہاں مسلم لیگ ن، پاکستان پیپلز پارٹی، آئی پی پی اور جماعت اسلامی کے درمیان سخت مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے۔ میرپور ڈویژن میں ووٹرز کی مجموعی تعداد چودہ لاکھ ایک ہزار چار سو انتالیس ہے، جبکہ دو ہزار چار سو چون پولنگ اسٹیشنز اور تین ہزار سات سو ایک پولنگ بوتھ قائم کیے گئے ہیں۔ ایک ہزار دو سو اکتالیس پولنگ اسٹیشن انتہائی حساس اور سات سو چوبیس کو حساس قرار دیا گیا ہے، جبکہ انتخابی عمل کے باعث میرپور ڈویژن میں عام تعطیل بھی ہے۔
آزاد کشمیر کے وزیر خزانہ چودھری قاسم مجید نے حلقہ ایل اے ٹو چکسواری میں اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔ دوسری جانب کوٹلی میں الیکشن کمیشن نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر دو پریذائیڈنگ افسران کو معطل کر کے گرفتار کر لیا۔ ترجمان کے مطابق دونوں افسر پولنگ اسٹیشن پہنچنے کے بجائے نجی رہائش گاہ پر چلے گئے تھے، جس پر فوری کارروائی کرتے ہوئے ان کی جگہ نئے پریذائیڈنگ افسران تعینات کر دیے گئے۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ انتخابی عمل میں کسی بھی قسم کی غفلت یا بے ضابطگی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔
ادھر وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے حلقہ ایل اے 10 کوٹلی میں دھاندلی کے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک پریذائیڈنگ افسر اور پٹواری کو پولنگ بیگز سمیت پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار چودھری یاسین کے گھر سے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔ ان کا مطالبہ ہے کہ وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل راٹھور اور چیف الیکشن کمشنر فوری تحقیقات کرائیں اور انکوائری مکمل ہونے تک اس حلقے میں انتخابی عمل روک دیا جائے۔ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ تحقیقات سے قبل وہ اس حلقے کے نتائج قبول نہیں کریں گے۔ تاہم ان الزامات پر متعلقہ انتخابی حکام یا نامزد امیدوار کی جانب سے اس وقت تک کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
یہ بھی پڑھیں: پیپلز پارٹی نے آزاد کشمیر میں دھاندلی کے رانا ثناء اللہ کے الزامات مسترد کر دیئے
انتخابی عمل کے پرامن انعقاد کے لیے میرپور ڈویژن بھر میں فول پروف سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔ اٹھارہ ہزار پانچ سو ساٹھ سکیورٹی اہلکار مختلف پولنگ اسٹیشنز پر تعینات ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ مصطفیٰ مغل کا کہنا ہے کہ آزاد، شفاف، غیر جانبدار اور پرامن انتخابات کے لیے تمام انتظامات مکمل ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ووٹنگ کے عمل میں رکاوٹ ڈالنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی اور عوام سے اپیل کی کہ وہ بلا خوف و خطر گھروں سے نکلیں اور مقررہ وقت کے اندر اپنا حقِ رائے دہی ضرور استعمال کریں۔
آزاد کشمیر کے پہلے مرحلے کے انتخابات میں جہاں ووٹرز کا جوش و خروش دیکھنے میں آ رہا ہے، وہیں بعض حلقوں میں بے ضابطگیوں کے الزامات نے انتخابی ماحول کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ اب نظریں پولنگ کے اختتام، ووٹوں کی گنتی اور ابتدائی نتائج پر مرکوز ہیں، جو آئندہ سیاسی منظرنامے کا تعین کریں گے۔












