بیجنگ ( پاک ترک نیوز) کبھی الیکٹرک گاڑیوں کی دنیا کا بے تاج بادشاہ ٹیسلا تھا مگر اب منظر نامہ بدل چکا ہے۔ چین کی کمپنیاں نہ صرف عالمی مارکیٹ پر چھا رہی ہیں بلکہ امریکی برتری کو بھی چیلنج کر رہی ہیں۔ تازہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ دنیا کی الیکٹرک گاڑیوں کی دوڑ میں اب سب سے آگے ایک چینی کمپنی ہے۔
عالمی الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت کی تازہ ترین درجہ بندی میں چینی کمپنیوں نے نمایاں برتری حاصل کر لی ہے، جبکہ بی وائی ڈی نے سال 2026 کے پہلے پانچ ماہ میں فروخت کے لحاظ سے ٹیسلا کو تقریباً دوگنے فرق سے پیچھے چھوڑ دیا۔
کلین ٹیکنیکا کے اعداد و شمار کے مطابق جنوری سے مئی 2026 کے دوران بی وائی ڈی نے دنیا بھر میں 12 لاکھ 49 ہزار 405 الیکٹرک گاڑیاں فروخت کیں، جبکہ ٹیسلا کی فروخت 5 لاکھ 95 ہزار 647 یونٹس رہی۔
جون 2026 میں بی وائی ڈی کی بیرون ملک فروخت 94.7 فیصد اضافے کے ساتھ 1 لاکھ 75 ہزار 349 گاڑیوں تک پہنچ گئی، جبکہ سال کی پہلی ششماہی میں بیرون ملک فروخت 7 لاکھ 92 ہزار 256 یونٹس رہی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 70.7 فیصد زیادہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر سب سے زیادہ فروخت ہونے والے 20 الیکٹرک گاڑیوں کے برانڈز میں سے 11 چینی کمپنیاں ہیں، جن کا مجموعی طور پر ان ٹاپ 20 برانڈز کی فروخت میں تقریباً 64 فیصد حصہ بنتا ہے۔ یہ اعداد و شمار عالمی ای وی مارکیٹ میں چین کی بڑھتی ہوئی برتری کی عکاسی کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا ایران جنگ ،الیکٹرک گاڑیوں کی طلب میں تیزی
اگرچہ چین کے اندر بی وائی ڈی کو مشکلات کا سامنا ہے۔ حکومتی سبسڈی میں کمی، جائیداد کے بحران اور صارفین کی کمزور ہوتی قوتِ خرید کے باعث کمپنی کی مقامی فروخت میں کمی آئی، لیکن بیرونِ ملک اس کی رفتار حیران کن رہی۔ صرف جون میں بیرون ملک فروخت تقریباً پچانوے فیصد بڑھ گئی، جبکہ سال کی پہلی ششماہی میں بیرون ملک فروخت ستر فیصد سے زیادہ اضافے کے ساتھ آٹھ لاکھ کے قریب پہنچ گئی۔
دوسری جانب ٹیسلا اب بھی سب سے بڑی غیر چینی الیکٹرک گاڑی ساز کمپنی ہے، جبکہ ووکس ویگن، بی ایم ڈبلیو اور ٹویوٹا بھی اس دوڑ میں موجود ہیں۔ تاہم صرف بیٹری سے چلنے والی گاڑیوں کی فروخت میں بھی بی وائی ڈی نے ٹیسلا پر واضح سبقت حاصل کر لی ہے۔
ماہرین کے مطابق چین نے برسوں تک حکومتی سرمایہ کاری، بیٹری ٹیکنالوجی، سستی مینوفیکچرنگ اور مضبوط سپلائی چین پر توجہ دے کر ایسی بنیاد رکھ دی جس کا فائدہ اب عالمی مارکیٹ میں مل رہا ہے۔ چینی کمپنیاں نسبتاً کم قیمت میں جدید فیچرز، بہتر بیٹری رینج اور جدید سافٹ ویئر کے ساتھ گاڑیاں پیش کر رہی ہیں، جس کی وجہ سے یورپ، ایشیا، مشرق وسطیٰ اور لاطینی امریکہ سمیت کئی خطوں میں ان کی مانگ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا الیکٹرک گاڑیوں کی دنیا میں امریکی کمپنی ٹیسلا دوبارہ اپنی کھوئی ہوئی برتری حاصل کر سکے گی، یا پھر آنے والے برسوں میں سڑکوں پر بھی "میڈ اِن چائنا” کا راج ہوگا؟ ایک بات طے ہے کہ مستقبل کی آٹو انڈسٹری کی جنگ اب صرف رفتار کی نہیں، بلکہ ٹیکنالوجی، قیمت اور عالمی منڈی پر قبضے کی جنگ بن چکی ہے۔












