تہران: (پاک ترک نیوز)مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ایران ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ خطے میں ممکنہ تصادم کے خدشات کے باعث یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ دفاعی صلاحیت کے اعتبار سے ایران اس وقت کہاں کھڑا ہے۔
2025 اور 2026 کے تازہ دفاعی اعداد و شمار پر مبنی ایک نئی رپورٹ میں ایران کی فوجی طاقت، میزائل پروگرام اور بحری حکمتِ عملی کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق خطے میں دفاعی قوت کے لحاظ سے ترکیہ بدستور سرفہرست ہے، جبکہ ایران اپنی وسیع افرادی قوت اور طاقتور میزائل صلاحیت کے باعث تیسری پوزیشن پر موجود ہے۔
ایران کی آبادی 8 کروڑ 80 لاکھ سے زائد بتائی جاتی ہے، جو اسے خطے کی بڑی افواج رکھنے والے ممالک میں شامل کرتی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ایران کی فعال فوجی نفری 6 لاکھ 10 ہزار کے قریب ہے، جبکہ ریزرو فورس کی تعداد ساڑھے تین لاکھ کے لگ بھگ ہے۔
فضائی طاقت کے شعبے میں ایران کو کمزور تصور کیا جاتا ہے، کیونکہ اس کے زیادہ تر جنگی طیارے سرد جنگ کے دور کے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایران کے پاس مجموعی طور پر 5514 طیارے موجود ہیں، جن میں لڑاکا طیاروں کی تعداد 113 سے 186 کے درمیان ہے۔
تاہم اس خلا کو پُر کرنے کے لیے ایران نے ڈرون ٹیکنالوجی پر بھرپور توجہ دی ہے، جہاں شاہد اور مہاجر ڈرونز کو کم لاگت اور مؤثر حملہ آور صلاحیت کے باعث نمایاں حیثیت حاصل ہے۔
زمینی محاذ پر ایران کی فوج کو روایتی جنگ کے لیے خاصا مضبوط قرار دیا گیا ہے۔ ایران کے پاس 1700 سے 1900 کے درمیان ٹینک موجود ہیں، جن میں مقامی طور پر تیار کردہ کرار ٹینک اور جدید تقاضوں کے مطابق اپ گریڈ کیے گئے ٹی-72 شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 65 ہزار سے زائد بکتر بند گاڑیاں ایران کو زمینی نقل و حرکت میں نمایاں برتری دیتی ہیں۔ایران کا میزائل پروگرام اس کی دفاعی حکمتِ عملی کا مرکزی ستون سمجھا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایران مشرقِ وسطیٰ میں بیلسٹک میزائلوں کا سب سے بڑا ذخیرہ رکھتا ہے۔
خیبر شکن اور فتاح جیسے جدید میزائلوں کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ ہائپرسونک صلاحیت رکھتے ہیں اور ان کی رینج دو ہزار کلومیٹر تک ہے، جس سے خطے میں موجود امریکی اڈے اور اسرائیل اس کی زد میں آ سکتے ہیں۔بحری محاذ پر ایران روایتی بحری قوت کے بجائے غیر متوازن حکمتِ عملی اپنائے ہوئے ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران چھوٹی، تیز رفتار حملہ آور کشتیوں اور آبدوزوں پر انحصار کرتا ہے۔ ان کشتیوں کی تعداد 101 سے 107 کے درمیان جبکہ آبدوزوں کی تعداد 19 بتائی جاتی ہے، جو خلیج فارس کے کم گہرے پانیوں میں دشمن کے لیے سنجیدہ خطرہ سمجھی جاتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق ایران کی بڑی افرادی قوت، مقامی دفاعی صنعت اور میزائل صلاحیت اسے خطے کے اہم فوجی کھلاڑیوں میں برقرار رکھے ہوئے ہیں، اگرچہ بعض شعبوں میں کمزوریاں بھی واضح ہیں۔












