کولمبو: (پاک ترک نیوز)2026 ءکے آئی سی سی مینز ٹی20 ورلڈ کپ کے سپر ایٹس مرحلے کا آغاز ہفتہ کو پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان اہم مقابلے سے ہوگا۔
دونوں ٹیمیں اگرچہ فیورٹ قرار نہیں دی جا رہیں، تاہم ٹائٹل جیتنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔پاکستان دفاعی چیمپئن کی حیثیت سے میدان میں اترے گا، مگر اس ایڈیشن میں اسے فیورٹس کی فہرست میں شامل نہیں کیا جا رہا۔
اسی طرح نیوزی لینڈ کو بھی “ڈارک ہارس” قرار دیا جا رہا ہے، لیکن دونوں ٹیمیں کسی بھی بڑی ٹیم کو شکست دینے کی اہلیت رکھتی ہیں۔
پاکستان کے نائب کپتان شاداب خان نے کہا ہے کہ ٹیم ورلڈ کپ جیتنے کے ہدف پر گامزن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نمیبیا کے خلاف شاندار فتح کے بعد ٹیم کا اعتماد بحال ہوا ہے اور وہ درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔
پاکستان نے کولمبو میں کھیلے گئے میچ میں نمیبیا کو 97 رنز پر آؤٹ کر کے 102 رنز سے بڑی کامیابی حاصل کی تھی۔
اوپنر صاحبزادہ فرحان نے ناقابلِ شکست سنچری اسکور کرتے ہوئے 199 رنز کا مجموعہ ترتیب دینے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
بعد ازاں اسپنرز عثمان طارق اور شاداب خان نے مل کر 7 وکٹیں حاصل کیں۔
اس سے قبل پاکستان کو روایتی حریف بھارت کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس کے بعد ٹیم کو سپر ایٹس تک رسائی کے لیے ہر حال میں کامیابی درکار تھی۔ اب سپر ایٹس مرحلے میں نیوزی لینڈ کے علاوہ انگلینڈ اور سری لنکا جیسے مضبوط حریف بھی پاکستان کے منتظر ہیں۔
دوسری جانب نیوزی لینڈ نے گروپ مرحلے کا اختتام کینیڈا کے خلاف آٹھ وکٹوں سے فتح کے ساتھ کیا۔ گلین فلپس نے 76 اور رچن رویندرا نے 59 رنز کی ناقابلِ شکست اننگز کھیل کر 174 رنز کا ہدف بآسانی حاصل کیا۔ تاہم کینیڈین اوپنر یووراج سمرہ کی 110 رنز کی جارحانہ اننگز نے کیویز کو پریشان ضرور کیا۔
نیوزی لینڈ کو گروپ مرحلے میں جنوبی افریقہ کے ہاتھوں بھاری شکست کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا، جبکہ افغانستان اور متحدہ عرب امارات کے خلاف کامیابیاں حاصل کیں۔
کیوی کپتان اور اہم اسپنرمچل سینٹنر بیماری کے باعث آخری میچ نہیں کھیل سکے تھے، تاہم پاکستان کے خلاف ان کی واپسی متوقع ہے۔
کولمبو کی اسپن سازگار پچ پر ان کی موجودگی فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ ایش سودھی کو بھی پلیئنگ الیون میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
پاکستان کی جانب سے فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی کو نمیبیا کے خلاف آرام دیا گیا تھا، جو ایک حیران کن فیصلہ تھا۔ اگرچہ ان کی کارکردگی ابتدائی میچز میں متاثر کن نہیں رہی، لیکن ہر میچ میں وکٹ حاصل کی۔
نیوزی لینڈ کے خلاف ان کی واپسی کا قوی امکان ہے۔سپر ایٹس مرحلہ انتہائی سخت مقابلوں پر مشتمل ہوگا، جہاں ہر میچ ہائی پریشر گیم کی حیثیت رکھتا ہے۔
پاکستان اور نیوزی لینڈ کی ٹیمیں اس اہم ٹاکرے میں فتح کے ذریعے ٹورنامنٹ کے دوسرے مرحلے میں اپنی برتری ثابت کرنے کی کوشش کریں گی۔












