لاہور( پاک ترک نیوز) آم کو پھلوں کا بادشاہ کہا جاتا ہے، لیکن شوگر کے مریض اکثر یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا وہ آم کھا سکتے ہیں یا نہیں؟ کیا آم کھانے سے شوگر خطرناک حد تک بڑھ جاتی ہے، یا مناسب مقدار میں اس کا استعمال محفوظ ہے؟ ماہرین کیا کہتے ہیں؟ دیکھیے یہ خصوصی رپورٹ۔
گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی آم کی خوشبو ہر طرف پھیل جاتی ہے، مگر ذیابیطس کے مریضوں کے ذہن میں ایک ہی سوال ہوتا ہے کہ کیا آم ان کے لیے محفوظ ہے؟
ماہرین غذائیت اور معالجین کے مطابق شوگر کے مریض مکمل طور پر آم سے محروم نہیں ہوتے، بلکہ اعتدال اور احتیاط کے ساتھ آم کھا سکتے ہیں۔
آم میں قدرتی شکر، فائبر، وٹامن اے، وٹامن سی اور اینٹی آکسیڈنٹس موجود ہوتے ہیں، جو جسم کے لیے فائدہ مند ہیں، لیکن اس میں قدرتی مٹھاس بھی نسبتاً زیادہ ہوتی ہے، اس لیے مقدار کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
ماہرین کے مطابق ایک وقت میں آدھا سے ایک چھوٹا آم یا تقریباً 100 سے 150 گرام آم کھانا نسبتاً محفوظ سمجھا جاتا ہے، بشرطیکہ مریض کی شوگر کنٹرول میں ہو۔
اگر شوگر مسلسل زیادہ رہتی ہو، انسولین کی مقدار تبدیل ہو رہی ہو یا ذیابیطس کے ساتھ گردوں یا دیگر پیچیدگیاں موجود ہوں تو آم کھانے سے پہلے اپنے معالج یا ماہر غذائیت سے مشورہ ضرور کریں۔
آم ہمیشہ کھانے کے فوراً بعد یا متوازن غذا کے ساتھ کھایا جائے، خالی پیٹ یا آم کا جوس پینے سے گریز کیا جائے کیونکہ جوس میں فائبر کم اور شکر جلدی جذب ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پھلوں کا بادشاہ یا خاموش خطرہ؟
ماہرین یہ بھی مشورہ دیتے ہیں کہ آم کھانے کے بعد میٹھی اشیا، سافٹ ڈرنکس یا دیگر زیادہ کاربوہائیڈریٹ والی غذاؤں سے پرہیز کیا جائے، جبکہ روزانہ ہلکی ورزش یا چہل قدمی بھی شوگر کو متوازن رکھنے میں مدد دیتی ہے۔
ماہرین کے مطابق شوگر کے مریضوں کے لیے اصل مسئلہ آم نہیں بلکہ اس کی زیادہ مقدار ہے۔ اگر ذیابیطس قابو میں ہو، خوراک متوازن ہو اور ڈاکٹر کی ہدایات پر عمل کیا جائے تو مناسب مقدار میں آم سے لطف اٹھایا جا سکتا ہے، بغیر صحت کو غیر ضروری خطرے میں ڈالے۔









