واشنگٹن / تہران : (پاک ترک نیوز)امریکا اور ایران کے درمیان جاری خفیہ اور کھلے مذاکرات، اسرائیل کے لیے ایک نئے خطرے کی گھنٹی بن چکے ہیں۔ اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق دفاعی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ یہ مذاکرات اسرائیل کو براہِ راست خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔
اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کسی صورت ایٹمی پروگرام کو ترک نہیں کریں گے۔ منصوبہ ختم کرنا ان کے نزدیک ریاستی بقاء کے خلاف ہے۔ ایک اور تشویشناک پہلو یہ ہے کہ ایران کا 60 فیصد افزودہ یورینیم کہاں موجود ہے؟ یہ اب تک ایک معمہ ہے۔
اس کیساتھ ساتھ، ایران اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام سے بھی دستبردار ہونے کو تیار نہیں، جن میں سے کئی کا رُخ اسرائیل کی طرف ہے۔
اسرائیلی دفاعی اندازوں کے مطابق اب دو راستے باقی ہیں۔ پہلا، ایک ایسا معاہدہ جو اسرائیل کو ایران پر حملے سے روک دے۔ دوسرا، ایک اوپن ایگریمنٹ جو اسرائیل کو خطرات ختم کرنے کے لیے فوجی کارروائی کی آزادی دے۔
دوسرا آپشن اسرائیل کے لیے زیادہ فائدہ مند سمجھا جا رہا ہے، خاص طور پر اس صورت میں جب مذاکرات ناکام ہو جائیں اور امریکہ خود فوجی کارروائی پر مجبور ہو جائے۔
ادھر اسرائیلی فوج مختلف خطرناک منظرناموں کے لیے مکمل تیاری کر رہی ہے، جن میں ایران کی جانب سے پراکسی گروپس کے ذریعے حملے بھی شامل ہیں۔ اسی تناظر میں، نیتن یاہو اور ڈونلڈ ٹرمپ کی واشنگٹن میں ملاقات متوقع ہے، جہاں ایٹمی مذاکرات اور خطے کی سکیورٹی پر فیصلہ کن بات چیت ہو گی۔ سوال یہ ہے: کیا یہ مذاکرات جنگ روکیں گے؟ یا مشرقِ وسطیٰ ایک نئی آگ کی طرف بڑھ رہا ہے؟








