واشنگٹن : (پاک ترک نیوز)ذرا تصور کیجیے، ایک گھڑی چل رہی ہے، مگر وقت نہیں بتا رہی بلکہ اس پر انسانیت کے خاتمے کا الٹی میٹ کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہے۔ اس گھڑی کا نام ہے "ڈومز ڈے کلاک”۔ ایک ایسی گھڑی، جس میں آدھی رات دنیا کی مکمل تباہی کی نشانی ہے۔ اور آج دنیا اس آدھی رات سے صرف 85 سیکنڈ دور کھڑی ہے۔
یہ کوئی فلمی کہانی نہیں، نہ ہی کوئی سازشی نظریہ۔ دنیا کے نامور سائنسدان، ایٹمی ماہرین اور سیکیورٹی ایکسپرٹس ہر سال اس گھڑی کو سیٹ کرتے ہیں، یہ دیکھ کر کہ انسانیت خود کو تباہی کے کتنے قریب لے آئی ہے۔
گذشتہ سال یہ گھڑی 89 سیکنڈ پر تھی، مگر 27 جنوری کو اسے مزید آگے بڑھا دیا گیا۔ اور یوں 1947 ء میں بننے کے بعد، یہ گھڑی تاریخ کے سب سے خطرناک مقام پر پہنچ گئی۔ماہرین کے مطابق اس کی وجوہات واضح ہیں: عالمی جنگوں کا خطرہ، ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ، موسمیاتی تبدیلی، اور اب مصنوعی ذہانت جیسے خطرناک عوامل بھی۔ بلٹن آف دی ایٹامک سائنٹسٹس کی صدر الیگزینڈرا بیل کہتی ہیں: خطرات بڑھ رہے ہیں، عالمی تعاون کمزور ہو رہا ہے، اور ہمارے پاس وقت بہت کم رہ گیا ہے۔یہ گھڑی ہمیں ڈرانے کے لیے نہیں، بلکہ خبردار کرنے کے لیے بنائی گئی ہے۔ یہ ایک آئینہ ہے جو انسانیت کو اس کا انجام دکھا رہا ہے۔ اگر آدھی رات آ گئی تو اس کا مطلب ہوگا ایٹمی جنگ، یا ایسی قدرتی تباہی جو دنیا کو پہلے جیسا نہیں رہنے دے گی۔ سوال یہ ہے: کیا دنیا اس وارننگ کو سنجیدگی سے لے گی؟ یا یہ گھڑی واقعی آدھی رات بجا کر رہے گی؟









