
رپورٹ امتیاز حسین مشوری
راجن پور میں پولیو کے خاتمے کے لیے جاری قومی کوششوں کے تحت 5 لاکھ 64 ہزار سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کی مہم کے سلسلے میں سماجی تحریک کو مزید مؤثر بنانے کے لیے مختلف تقریبات اور سیمینارز کا انعقاد کیا گیا۔ یہ سیمینارز ضلع کے دشوار گزار پہاڑی علاقوں، دریائی پٹی، تحصیل جامپور، تحصیل روجھان اور ضلعی ہیڈکوارٹر راجن پور میں منعقد ہوئے، جن میں محکمہ صحت کے افسران، علما کرام، اساتذہ، صحافیوں، بااثر شخصیات اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز نے بھرپور شرکت کی۔
سیمینارز کا مقصد پولیو کے خلاف عوامی شعور بیدار کرنا، والدین میں پائے جانے والے خدشات کا ازالہ کرنا اور سماجی رابطوں کے مؤثر ذرائع کے ذریعے مہم کو کامیاب بنانا تھا۔ شرکا کو آگاہ کیا گیا کہ پولیو ایک موذی مرض ہے جس سے صرف اور صرف بروقت حفاظتی قطرے پلا کر ہی بچوں کو مستقل معذوری سے بچایا جا سکتا ہے۔
اس موقع پر سی ای او ہیلتھ راجن پور ڈاکٹر فیاض میکن نے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ 2 فروری سے شروع ہونے والی انسداد پولیو مہم کے دوران ضلع بھر میں 5 لاکھ 64 ہزار سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس قومی فریضے کی انجام دہی کے لیے 3 ہزار 9 سو 85 تربیت یافتہ افراد پر مشتمل ٹیمیں فیلڈ میں متحرک ہوں گی جو گھر گھر جا کر بچوں کو قطرے پلائیں گی۔
ڈاکٹر فیاض میکن کا کہنا تھا کہ پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے صرف محکمہ صحت کی کوششیں کافی نہیں بلکہ علما، اساتذہ، میڈیا، صحافیوں اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز کا کردار نہایت اہم ہے۔ انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور اپنے بچوں کو پولیو سے محفوظ بنانے کے لیے ٹیموں سے مکمل تعاون کریں۔
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سفیر امن علامہ قاری محمود احمد قاسمی نے کہا کہ پولیو کے قطرے پلانا دینی اور قومی فریضہ ہے اور اس حوالے سے کسی قسم کی غلط فہمی کی کوئی گنجائش نہیں۔ سردار قدیر خان اور صدر پریس کلب راجن پور نے بھی پولیو مہم کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے بھرپور آگاہی مہم چلائی جائے گی تاکہ کوئی بھی بچہ پولیو کے قطروں سے محروم نہ رہے۔
تقریب میں شریک صحافیوں اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹس نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ انسداد پولیو مہم کے دوران مثبت پیغام عام کریں گے اور عوام میں شعور بیدار کرنے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔
شرکا کا کہنا تھا کہ راجن پور جیسے پسماندہ اور جغرافیائی طور پر مشکل ضلع میں پولیو کے خاتمے کے لیے اجتماعی کوششیں وقت کی اہم ضرورت ہیں، اور ان شاء اللہ عوامی تعاون سے اس موذی مرض کو ہمیشہ کے لیے ختم کیا جا سکے












