تہران:(پاک ترک نیوز)ایران میں دو ہفتوں تک جاری رہنے والی ہنگامہ آرائی کے بعد صورتحال میں واضح بہتری آنا شروع ہو گئی ہے اور مختلف شہروں میں معمولاتِ زندگی بحالی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
سرکاری ذرائع کے مطابق امن و امان میں بہتری کے بعد بین الاقوامی فون سروس دوبارہ فعال کر دی گئی ہے، تاہم انٹرنیٹ سروس بدستور بند ہے۔ ادھر امریکا میں قائم ایک انسانی حقوق گروپ نے حالیہ مظاہروں کے دوران ہلاکتوں کی تعداد دو ہزار سے تجاوز کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جسے ایرانی حکام نے سختی سے مسترد کرتے ہوئے بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔
ایرانی سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ حالیہ کارروائیوں کے دوران مختلف مقامات سے غیر ملکی ساختہ اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا ہے، جسے وہ اندرونی بدامنی کو بیرونی ایجنڈے سے جوڑنے کا ثبوت قرار دے رہے ہیں۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واشنگٹن کو دو ٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی ممکنہ فوجی اقدام کا جواب صرف سفارتی نہیں بلکہ ہر سطح پر دیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے مہنگائی کے خلاف پرامن احتجاج کو تسلیم کیا اور مسائل کے حل کے لیے بات چیت کا راستہ بھی اپنایا، مگر ایک منظم منصوبے کے تحت مظاہروں کو تشدد میں بدل دیا گیا۔
عباس عراقچی کے مطابق ایران کے پاس ایسے ناقابلِ تردید شواہد موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیرونِ ملک موجود عناصر نے ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے ہدایات جاری کیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حالات میں امریکا کی جانب سے سنجیدہ اور منصفانہ مذاکرات کی کوئی علامت نظر نہیں آ رہی۔
جرمن قیادت کے حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ برلن انسانی حقوق پر نصیحت کرنے کی اخلاقی حیثیت کھو چکا ہے۔
ان کے بقول جرمنی نے نہ تو وینزویلا کے صدر کی گرفتاری پر آواز اٹھائی اور نہ ہی غزہ میں ہزاروں شہریوں کی ہلاکت پر کوئی مؤثر مؤقف اختیار کیا، جس سے اس کا دوہرا معیار واضح ہوتا ہے۔












