بیجنگ(پاک ترک نیوز) پانی کی بڑھتی ہوئی قلت اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے پیش نظر چین نے سمندری پانی کو قابلِ استعمال بنانے، واٹر فلٹریشن اور جدید آبی ٹیکنالوجی کے شعبے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری شروع کر دی ہے۔ چین اب ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور افریقا کے پانی کی قلت سے متاثرہ ممالک کو جدید مشینری، ڈی سیلینیشن میمبرینز اور انجینئرنگ خدمات فراہم کرنے والے اہم ممالک میں شامل ہو رہا ہے۔
صنعتی ماہرین کے مطابق، چین میں قدرتی آبی وسائل پر بڑھتے دباؤ نے حکومت اور نجی کمپنیوں کو متبادل ذرائع سے میٹھا پانی تیار کرنے کی ٹیکنالوجی پر توجہ بڑھانے پر آمادہ کیا ہے۔ چینی کمپنیاں مصر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت مختلف ممالک کو پانی صاف کرنے کا سامان فراہم کر رہی ہیں، جب کہ ان منصوبوں میں چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) کو بھی اہمیت حاصل ہے۔
اقوام متحدہ کے تجارتی اعدادوشمار کے مطابق، چین نے 2025 میں پانی کو فلٹر اور صاف کرنے والی مشینری کی 2 ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کی برآمدات کیں، جو 2020 میں 1.6 ارب ڈالر کے مقابلے میں تقریباً 25 فیصد زیادہ ہیں۔
چینی کمپنی وونٹرون ٹیکنالوجی کے مطابق، اس نے گزشتہ سال بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے میں شامل ممالک کو سمندری پانی صاف کرنے کے لیے 30 ہزار سے زیادہ میمبرینز فراہم کیں، جو روزانہ 3 لاکھ ٹن سے زیادہ پانی صاف کرنے کی مجموعی صلاحیت کے لیے کافی ہیں۔
اسی طرح چینی سرکاری کمپنی پاور چائنا نے جنوری میں تنزانیہ میں پانی کی فراہمی کا ایک منصوبہ تعمیر کرنے کا اعلان کیا، جس سے 4 لاکھ 50 ہزار سے زیادہ افراد کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔
چین کی جانب سے آبی ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کی ایک بڑی وجہ ملک کے اندر پانی کی دستیابی سے متعلق بڑھتے ہوئے خدشات ہیں۔ تبت کے گلیشیئرز اور پہاڑی آبی ذخائر جنوبی، جنوب مشرقی اور مشرقی ایشیا کے تقریباً 2 ارب افراد کے لیے دریاؤں کے پانی کا اہم ذریعہ ہیں، تاہم موسمیاتی تبدیلی ان قدرتی ذخائر کو متاثر کر رہی ہے۔
دوسری جانب شمالی چین میں زیرِ زمین پانی کے حد سے زیادہ استعمال نے زرعی علاقوں میں پانی کی کمی کو سنگین بنا دیا ہے۔
ہانگ کانگ میں قائم تھنک ٹینک چائنا واٹر رسک کے مطابق، 2050 تک ایشیا کے 10 بڑے دریائی نظاموں میں پانی کی قدرتی روانی اپنے عروج پر پہنچنے کے بعد مسلسل کم ہونے کا خطرہ ہے۔ ان دریائی نظاموں سے ایشیا کی تقریباً نصف آبادی کو پانی فراہم ہوتا ہے۔
ادارے نے خبردار کیا ہے کہ پانی کی دستیابی میں کمی 16 ممالک کی مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً نصف حصے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔
چین نے پانی کے تحفظ کو اپنی قومی سلامتی اور معاشی خود انحصاری کا حصہ قرار دیتے ہوئے نئے ضوابط بھی متعارف کرائے ہیں۔ چائنا واٹر رسک کے مطابق، ملک میں آبی وسائل کے تحفظ اور پانی کے بنیادی ڈھانچے پر سالانہ اخراجات 1.2 ٹریلین یوآن، یعنی تقریباً 170 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں۔
چین کی وزارتِ قدرتی وسائل کے اعدادوشمار کے مطابق، 2025 کے اختتام تک ملک میں سمندری پانی کو صاف کرنے کے 167 منصوبے فعال تھے، جن کی مجموعی یومیہ صلاحیت 30 لاکھ 76 ہزار 805 ٹن تھی۔ یہ صلاحیت 2024 کے مقابلے میں 2 لاکھ 21 ہزار 283 ٹن زیادہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ دورِ حکومت میں 18 ماہ کے دوران 9 لاکھ 80 ہزار تارکینِ وطن ملک بدر
چینی سرکاری میڈیا کے مطابق، سمندری پانی کو صاف کرنے کی اوسط لاگت فی مکعب میٹر 4 سے 8 یوآن کے درمیان ہے۔
صنعتی رپورٹس میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ چین کی ڈی سیلینیشن مارکیٹ کا حجم 2024 کے 1.84 ارب ڈالر سے بڑھ کر 2033 میں 4.66 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے، جو سالانہ تقریباً 11 فیصد ترقی کے برابر ہے۔












