واشنگٹن(پاک ترک نیوز) کیا مریخ کے چاندوں میں چھپے ہیں زمین پر زندگی کی ابتدا کے راز ہیں ؟ کیا اربوں سال پرانی کائناتی تاریخ کے ایسے شواہد ملنے والے ہیں جو ہماری کائنات کے بارے میں سوچ بدل سکتے ہیں؟ جاپان نے ایک ایسا تاریخی خلائی مشن روانہ کر دیا ہے جس کا ہدف مریخ کا چاند فوبوس ہے! مشن کا مقصد وہاں سے مٹی اور چٹانوں کے نمونے زمین پر لانا ہے۔ لیکن ان نمونوں میں ایسا کیا چھپا ہو سکتا ہے؟ دیکھیے یہ خصوصی رپورٹ!
خلائی تحقیق کی دنیا میں ایک نیا باب کھل گیا! جاپان کا جدید ایچ تھری راکٹ، مریخ کے چاندوں کی کھوج کے لیے تیار کردہ خلائی جہاز کو لے کر خلا میں روانہ ہو گیا۔ یہ مشن محض ایک خلائی سفر نہیں، بلکہ نظامِ شمسی کی تاریخ جاننے کی ایک غیر معمولی کوشش ہے۔
منزل ہے فوبوس، مریخ کے دو چاندوں میں سے بڑا چاند، جس کا قطر تقریباً ساڑھے بائیس کلومیٹر ہے۔ منصوبے کے مطابق خلائی جہاز اگست 2027ء میں مریخ کے مدار تک پہنچے گا اور فوبوس کی سطح سے کم از کم دس گرام مٹی اور چٹانیں جمع کرے گا۔
لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ یہ نمونے زمین پر فوراً نہیں پہنچیں گے۔ مشن کی واپسی 2031ء میں متوقع ہے۔ یعنی سائنس دانوں کو ان نمونوں کے تجزیے کے لیے ابھی کئی سال انتظار کرنا ہوگا۔
اس مشن میں ایک چھوٹی روبوٹک چاند گاڑی بھی فوبوس کی سطح کا جائزہ لے گی۔ یہ تقریباً سو دن تک محفوظ مقامات تلاش کرنے اور زمین کی ساخت کا مشاہدہ کرنے کی کوشش کرے گی۔ اس کے بعد مرکزی خلائی جہاز کا روبوٹک حصہ نمونے جمع کرکے واپس روانہ ہوگا۔
فوبوس پر کششِ ثقل زمین کے مقابلے میں تقریباً ایک ہزار گنا کمزور ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں اترنے والی چاند گاڑی کو زمین جیسی گرفت اور حرکت میسر نہیں ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: مریم نواز کی سعودی سفیر سے ملاقات، پنجاب سے سعودی عرب کو 500 ارب روپے سے زائد کی برآمدات بڑھانے پر اتفاق
اب سب سے بڑا سوال: فوبوس اور مریخ کا دوسرا چاند ڈیموس وجود میں کیسے آئے؟ کیا مریخ سے کسی بڑے فلکیاتی جسم کی ٹکر کے بعد یہ چاند بنے؟ یا یہ ایسے سیارچے تھے جنہیں مریخ کی کششِ ثقل نے اپنے مدار میں کھینچ لیا؟
ادھر امریکا اور چین بھی مریخ سے نمونے زمین پر لانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ چین کا تیان وین تھری مشن تقریباً 2028ء میں روانہ کرنے کا منصوبہ ہے۔












