تل ابیب ( پاک ترک نیوز) مقبوضہ مغربی کنارے میں آبادکاروں کے حملوں جن میں حال ہی میں ایک امریکی صحافی اور یورپی سفارت کار بھی نشانہ بنے نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نتن یاہو کے لیے سیاسی مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ان کے مخالفین الزام عائد کر رہے ہیں کہ نتن یاہو ’’یہودی دہشت گردی‘‘ کے معاملے پر نرمی برت رہے ہیں۔اپوزیشن کے نمایاں رہنماؤں جن میں اعتدال پسند رجحانات رکھنے والے گادی آئزن کوٹ، بائیں بازو کے یائیر گولان اور دائیں بازو کے اعتدال پسند رہنما نفتالی بینیٹ شامل ہیں نے ان حملوں کو ’’یہودی دہشت گردی‘‘ قرار دیا ہے۔ حالانکہ ان کے سیاسی نظریات میں نمایاں اختلافات ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آئی سی سی ون ڈے درجہ بندی جاری، بابر اعظم ساتویں، ابرار احمد دوسرے نمبر پر برقرار
یہ اصطلاح ان الفاظ میں شامل ہے،جن کے بیرونی حلقوں کی جانب سے استعمال پر نتن یاہو کی حکومت تحفظات کا اظہار کرتی ہے۔دو الگ الگ واقعات میں امریکی فوٹوگرافر ہائیڈی لیون کو آبادکاروں نے نشانہ بنایا۔ وہ اب بھی اسپتال میں زیر علاج ہے۔ایک اور واقعے میں یورپی وفد پر حملہ کیا گیا جس میں یروشلم میں فرانس کے اعلیٰ ترین سفارتی عہدیدار بھی شامل تھے۔ یہ وفد زیتون کی فصل کی کٹائی کے موسم میں شرکت کے لیے رام اللہ کے مشرق میں واقع فلسطینی دیہات کا دورہ کر رہا تھا۔رواں سال کے آغاز سے آبادکاروں کی جانب سے روزانہ ہونے والے حملوں میں متعدد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ زیتون کی فصل کی کٹائی کے موسم میں ان حملوں میں اضافہ ہوا، جن میں مار پیٹ، جسمانی تشدد، املاک کو آگ لگانا اور چوری جیسے واقعات شامل ہیں۔وسط پسند امیدوار اور اسرائیلی فوج کے سابق سربراہ گادی آئزن کوٹ جنہیں 27 اکتوبر کے انتخابات میں نتن یاہو کا اہم حریف سمجھا جاتا ہے کا کہنا ہے کہمغربی کنارے میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ اسرائیلی حکومت کی سرپرستی میں ہونے والی یہودی دہشت گردی ہے۔یائیر گولان نے بھی کہا کہ یہودی دہشت گردی کے خلاف اسی طرح آہنی ہاتھوں سے کارروائی ہونی چاہیے، جس طرح فلسطینی دہشت گردی کے خلاف کی جاتی ہے۔












