لاہور(پاک ترک نیوز)لاہور ہائیکورٹ نے سرکاری ریکارڈ میں غلطی کی نشاندہی کرنے والے شہری محمد شاہد کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 182 کے تحت فوجداری کارروائی کالعدم قرار دے دی۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ محض الزام ثابت نہ ہونے سے کسی شہری کو جھوٹی اطلاع دینے کا مرتکب قرار نہیں دیا جا سکتا۔
جسٹس غلام سرور نہنگ نے شہری محمد شاہد کی درخواست منظور کرتے ہوئے ماتحت عدالتوں کے 26 فروری اور 24 مارچ 2025 کے احکامات بھی کالعدم قرار دے دیے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق پراپرٹی ٹیکس کے ریکارڈ میں شناختی کارڈ نمبر کی غلطی درست ہونے کے بعد شہری کے خلاف فوجداری کارروائی شروع کی گئی تھی۔
عدالت نے قرار دیا کہ دفعہ 182 کے تحت جرم ثابت کرنے کے لیے یہ ثابت کرنا ضروری ہے کہ اطلاع دینے والے شخص کو معلوم تھا کہ اطلاع جھوٹی ہے اور اس نے بدنیتی سے کام لیا۔ محض معلومات غلط ثابت ہونے سے جھوٹی اطلاع دینے کا جرم ثابت نہیں ہوتا۔
فیصلے میں واضح کیا گیا کہ نیک نیتی سے دی گئی اطلاع بعد میں درست ثابت نہ ہو تو شہری کو دفعہ 182 کے تحت مجرم نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ الزام ثابت نہ ہونا اور الزام جھوٹا ثابت ہونا دو مختلف باتیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: قومی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان شان مسعود پنڈلی کی انجری کا شکار
لاہور ہائیکورٹ کے مطابق دفعہ 182 کے تحت کارروائی کے لیے متعلقہ سرکاری اہلکار کی تحریری شکایت ضروری ہے۔ مجاز سرکاری افسر کی تحریری شکایت کے بغیر کارروائی قانونی تقاضے پورے نہیں کرتی۔ اس کے علاوہ شہری کو شوکاز نوٹس جاری کرکے وضاحت کا موقع دینا بھی ضروری ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ ان قانونی تقاضوں کے بغیر شہری کے خلاف کارروائی جاری رکھنا عدالتی عمل کا ناجائز استعمال ہوگا۔
فیصلے میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ اس حکم کے ذریعے جائیداد کی ملکیت یا وراثتی حقوق کا تعین نہیں کیا گیا اور نہ ہی دیگر قانونی یا محکمانہ کارروائی پر پابندی لگائی گئی ہے۔ فیصلہ صرف دفعہ 182 کے تحت فوجداری کارروائی تک محدود ہے۔








