اسلام آباد(پاک ترک نیوز) وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور گورنر اسٹیٹ بینک کی فچ ریٹنگز کے نمائندوں سے ملاقات ہوئی، جس میں پاکستان کی معاشی کارکردگی، مالیاتی استحکام اور خودمختار کریڈٹ ریٹنگ بہتر بنانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اعلامیے کے مطابق ملاقات میں عالمی سرمایہ منڈیوں تک پاکستان کی بحال شدہ رسائی، مسلسل بنیادی مالیاتی سرپلس اور مالیاتی نظم و ضبط کو اجاگر کیا گیا۔ملاقات کے دوران مہنگائی کے رجحانات، زری پالیسی، شرح مبادلہ کے استحکام اور جاری کھاتے کے محدود خسارے سے متعلق صورت حال پر بھی گفتگو ہوئی۔
اعلامیے میں بتایا گیا کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے، مستقبل کی ادائیگیوں کی ذمہ داریوں میں کمی اور بیرونی مالیاتی تحفظات مضبوط ہونے کے امور کا جائزہ لیا گیا۔ پاکستان کی بیرونی معاشی دباؤ اور غیر متوقع حالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت میں بہتری کو بھی نمایاں کیا گیا۔ملاقات میں قرضوں کی ادائیگی کی صلاحیت بہتر بنانے، قرضوں پر سودی اخراجات کم کرنے، قرضوں کی واپسی کی مدت بڑھانے اور دوطرفہ قرضوں میں توسیع سے متعلق یقین دہانیوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔وفاقی وزیر خزانہ نے عالمی مالیاتی فنڈ کے پروگرام کی تکمیل، بنیادی معاشی اصلاحات پر عمل درآمد اور برآمدات پر مبنی ترقی کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔ امریکہ کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کے روابط پر بھی گفتگو ہوئی۔
ی بھی پڑھیں: بھارت 2027 میں جاپان کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کی چوتھی بڑی معیشت بن جائے گا، عالمی مالیاتی فنڈ کی پیش گوئی
اعلامیے کے مطابق محمد اورنگزیب نے فچ ریٹنگز کے نمائندوں سے پاکستان کو ڈبل بی کریڈٹ ریٹنگ کے درجے تک پہنچانے کے لیے درکار شرائط اور اقدامات کے بارے میں رائے طلب کی۔












