لاہور ( پاک ترک نیوز) کیمرے نصب عینکوں کی فروخت پر پابندی کے لیے دائر درخواست پر لاہور ہائیکورٹ میں آج سماعت ہوگی، چیف جسٹس عالیہ نیلم خاتون نادرہ بی بی کی درخواست پر سماعت کریں گی۔عدالت نے وفاقی سیکرٹری تجارت، سیکرٹری داخلہ، چیئرمین بورڈ آف ریونیو اور دیگر متعلقہ حکام کو ذاتی حیثیت میں طلب کر رکھا ہے۔ متعلقہ حکام کی جانب سے جواب جمع نہ کرائے جانے پر عدالت پہلے ہی جواب طلب کر چکی ہے، جبکہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کو جواب داخل کرانے کے لیے مہلت دی گئی ہے۔
درخواست گزار کی جانب سے وکیل شہرام سائق پیش ہوئے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بازاروں، بڑی دکانوں اور بڑے تجارتی مراکز میں کیمرے نصب عینکیں فروخت ہو رہی ہیں، جن کے ذریعے خفیہ طور پر مختلف سرگرمیوں کی ریکارڈنگ کی جا سکتی ہے۔درخواست گزار کے مطابق ایسی عینکیں سکیورٹی کے لیے خطرہ ہیں اور ان کی فروخت کے لیے کسی متعلقہ حکومتی ادارے سے منظوری بھی نہیں لی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: مطالبات تسلیم ہونے تک امریکا کے خلاف لڑائی جاری رکھیں گے، ایران کا اعلان
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ کیمرے نصب عینکوں کی فروخت پر فوری پابندی عائد کی جائے اور متعلقہ اداروں سے وضاحت طلب کی جائے۔












