پشاور(پاک ترک نیوز )چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر خان نے کہا ہے کہ وفاقی مداخلت نے خیبرپختونخوا حکومت کی رٹ کمزور کر دی ہے، صوبے میں عملاً گورنر راج ہے، صرف باضابطہ اعلان باقی ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سے پشاور میں ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر خان نے کہا کہ دہشت گردی کا حل گورنر راج یا ایمرجنسی کا نفاذ نہیں، ایسے اقدامات سے بحران مزید شدت اختیار کرے گا۔ ایمرجنسی کا نفاذ صوبے اور وفاق دونوں کے لیے نقصان دہ ہوگا۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے پر سب متفق ہیں، اختلاف صرف اس بات پر ہے کہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے کون سا طریقۂ کار اختیار کیا جائے۔
بیرسٹر گوہر خان نے مطالبہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ایک سال سے بند ملاقاتوں کا سلسلہ فوری طور پر بحال کیا جائے، اس اقدام سے حالات میں بہتری آ سکتی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ تین صوبائی وزرا سمیت نو ارکانِ صوبائی اسمبلی اور آٹھ ارکانِ قومی اسمبلی کو اٹھایا گیا ہے، جبکہ عمران خان کی بہنیں اور کزن بھی جیل میں ہیں، جو تشویش ناک صورتِ حال ہے۔
بیرسٹر گوہر خان نے ملکی قیادت پر زور دیا کہ وہ ہٹ دھرمی ترک کرکے سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرے اور مسائل کے حل کے لیے سیاسی راستہ اختیار کرے۔










