اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) ایک باپ۔۔۔ جو موٹرسائیکل پر دودھ فروخت کرکے اپنے بچوں کا مستقبل سنوارنے میں لگا رہا۔۔۔ ایک بیٹی۔۔۔ جس نے محنت سے گولڈ میڈل حاصل کیا۔۔۔ اور ایک خواب۔۔۔ امریکہ جا کر مزید تعلیم حاصل کرنے کا خواب!لیکن پھر کچھ ایسا ہوا کہ خاندان کی جمع پونجی بھی خطرے میں پڑ گئی اور ایک ہونہار طالبہ کی زندگی کا المناک اختتام ہو گیا!اسلام آباد میں سڑک کنارے پھندا لگی لاش کی صورت میں ملنے والی طالبہ لائبہ کی کہانی نے کئی سوالات کھڑے کر دیے ۔ اہلخانہ کے مطابق، بیرونِ ملک تعلیم کے نام پر ان کے ساتھ مبینہ فراڈ ہوا، جس کی تفصیلات انتہائی دردناک ہیں۔
لائبہ کوئی عام طالبہ نہیں تھی۔۔۔ اس نے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی سے بی ایس کی ڈگری گولڈ میڈل کے ساتھ حاصل کی تھی۔ اس کی آنکھوں میں روشن مستقبل کے خواب تھے، منزل امریکہ میں مزید تعلیم حاصل کرنا تھی، جبکہ خاندان اس خواب کو حقیقت بنانے کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار تھا۔اہلخانہ کے مطابق، ایک تعلیمی مشیر نے امریکی جامعہ میں داخلہ دلوانے کے لیے ستر لاکھ روپے مانگے۔بیٹی کے مستقبل کی خاطر والد نے اپنا پلاٹ فروخت کر دیا۔۔۔ اکیس لاکھ روپے نقد ادا کیے۔۔۔ اور باقی رقم کے انتظام کے لیے لائبہ کی والدہ کے زیورات بھی بینک میں رکھوا دیے۔سوچیے! ایک ایسا باپ جو موٹرسائیکل پر دودھ فروخت کرکے بچوں کو پڑھاتا رہا، اس نے اپنی بیٹی کے خواب کے لیے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی داؤ پر لگا دی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کا طالبہ لائبہ کی خودکشی کے واقعے کا نوٹس
لیکن پھر وہ حقیقت سامنے آئی جس نے خاندان کی امیدوں کو ہلا کر رکھ دیا۔اہلخانہ کا کہنا ہے کہ جب لائبہ نے امریکی جامعہ میں داخلے کی دستاویزات کی جانچ کروائی تو وہ جعلی نکلیں۔جس داخلے کے لیے لاکھوں روپے جمع کیے گئے۔۔۔ جس کے لیے پلاٹ فروخت ہوا اور ماں کے زیورات بینک میں رکھوائے گئے۔۔۔ وہ داخلہ ہی مبینہ طور پر دھوکے کا شکار نکلا۔اور پھر سامنے آیا لائبہ کا وہ آخری پیغام، جس نے اس کہانی کو مزید دردناک بنا دیا۔اہلخانہ کے مطابق، لائبہ نے اپنے ماموں کو پیغام بھیجا کہ اس کے ساتھ ہونے والے فراڈ کے بارے میں والد کو نہ بتایا جائے، کیونکہ وہ یہ صدمہ برداشت نہیں کر پائیں گے۔
ایک طرف اپنے مستقبل کے بکھرتے خواب۔۔۔ دوسری طرف اپنے والد کو دکھ سے بچانے کی فکر!مگر لائبہ کی موت کے اصل محرکات کیا تھے؟ کیا اس مبینہ فراڈ کا واقعے سے کوئی تعلق تھا؟ اور اس معاملے میں ذمہ دار کون ہے؟ان سوالات کے جواب ابھی تفتیش طلب ہیں۔











