پیرس ( پاک ترک نیوز) پانچ خلیجی ممالک کے شہریوں کے لیے یورپ کے شینگن خطے میں بغیر ویزا سفر کی راہ ہموار ہونے کا امکان ہے۔ خلیج تعاون کونسل کے سیکریٹری جنرل جاسم محمد البدیوی کے مطابق سعودی عرب، بحرین، کویت، عمان اور قطر اس عمل کے آغاز کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔جاسم محمد البدیوی نے بتایا کہ رواں ماہ 24 اکتوبر کو ریاض میں خلیج تعاون کونسل اور یورپی یونین کے سربراہی اجلاس میں اس معاملے پر مثبت پیش رفت متوقع ہے۔ ان کے مطابق پانچوں ممالک کے شہریوں کے لیے شینگن ویزا کی شرط ختم کرنے کے عمل کے آغاز سے متعلق اہم اعلان سامنے آ سکتا ہے۔
تاہم اس پیش رفت کا مطلب یہ نہیں کہ پانچوں ممالک کے شہریوں کو فوری طور پر ویزا فری سفر کی اجازت مل جائے گی، بلکہ فی الحال ویزا کی شرط ختم کرنے کے لیے ضروری طریقۂ کار شروع ہونے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔اس وقت خلیج تعاون کونسل کے چھ رکن ممالک میں سے صرف متحدہ عرب امارات کے شہریوں کو شینگن خطے میں مختصر قیام کے لیے ویزا سے استثنیٰ حاصل ہے۔ اہل اماراتی شہری کسی بھی 180 روزہ مدت میں زیادہ سے زیادہ 90 دن تک قیام کر سکتے ہیں۔سعودی عرب، بحرین اور عمان کے شہریوں کو اپریل 2024 سے پانچ سالہ، متعدد بار سفر کے لیے قابل استعمال شینگن ویزا کی سہولت حاصل ہے، جبکہ کویت اور قطر کے شہریوں کے لیے بھی ویزا کے حصول کے قواعد میں نرمی کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کی ذیابیطس سے بچاؤ کے لیے قومی حکمتِ عملی بنانے کی ہدایت، نوجوانوں میں آگاہی بڑھانے پر زور
تاہم متعدد بار سفر کی اجازت دینے والا ویزا بھی ویزا ہی ہوتا ہے، جس کے لیے درخواست دینا اور مقررہ شرائط پوری کرنا ضروری ہے۔ مکمل ویزا استثنیٰ کی صورت میں مختصر دوروں کے لیے ویزا حاصل کرنے کی شرط ختم ہو جائے گی۔یورپی کمیشن نے 2022 میں کویت اور قطر کو مختصر قیام کے لیے ویزا سے مستثنیٰ ممالک کی فہرست میں شامل کرنے کی تجویز دی تھی، لیکن یہ تجویز ابھی یورپی یونین کے قانون سازی کے عمل سے مکمل طور پر منظور نہیں ہوئی۔












