انقرہ (پاک ترک نیوز)دنیا کے مختلف ممالک میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے خلاف کارروائیاں تیز ہو گئیں، ترکیہ میں رواں سال کے ابتدائی نو ماہ کے دوران 29 ہزار 700 سے زائد غیر قانونی افغان باشندوں کو گرفتار کیے جانے کی اطلاع ہے، جبکہ فرانس نے بھی امن و امان کے لیے خطرہ قرار دیے گئے غیر قانونی تارکینِ وطن کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔۔
افغان میڈیا طلوع نیوز کے مطابق ترکیہ میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے خلاف کارروائیوں کے دوران ہزاروں افراد کو حراست میں لیا گیا۔ دوسری جانب فرانس میں بھی ایسے افغان باشندوں کی ملک بدری کے اقدامات کیے جا رہے ہیں جنہیں حکام ملکی
۔یہ بھی پڑھیں :پاکستان کو موجودہ بحران سے نکالنے کے لیے عمران خان کی قیادت ضروری ہے،سہیل آفریدیامن و امان کے لیے خطرہ قرار دیتے ہیں
رپورٹ کے مطابق یورپی یونین کے متعدد رکن ممالک بھی غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کو ملک بدر کر چکے ہیں، جبکہ مختلف ممالک کی جانب سے افغان شہریوں کے لیے ویزا پابندیاں اور امیگریشن قوانین پر سختی کے اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔
غیر قانونی تارکینِ وطن کے خلاف کارروائیوں کا مقصد متعلقہ ممالک کے قوانین پر عمل درآمد اور امن و امان برقرار رکھنا بتایا جا رہا ہے۔ تاہم غیر قانونی طور پر مقیم ہونا بذاتِ خود کسی فرد کے مجرم ہونے کا ثبوت نہیں، اور جرائم میں ملوث ہونے کے الزامات کی تصدیق انفرادی شواہد اور قانونی کارروائی کے ذریعے ہی کی جا سکتی ہے۔
نوٹ: ترکیہ میں گرفتاریوں کی تعداد اور فرانس کے فیصلے سے متعلق معلومات افغان میڈیا کے حوالے سے دی گئی ہیں؛ ان دعوؤں کی متعلقہ حکام سے آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔












