بیجنگ ( پاک ترک نیوز) چین نے مستقبل کی جنگی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی فوج میں ڈرون، روبوٹک نظام اور مصنوعی ذہانت کے استعمال سے متعلق خصوصی تربیت کے لیے نئی فوجی درسگاہیں قائم کردی ہیں۔چین کی پیپلز لبریشن آرمی نے 30 ستمبر کو متعدد نئے تربیتی اداروں کا افتتاح کیا، جہاں فوجی افسران اور تکنیکی ماہرین کو جدید جنگی ٹیکنالوجی کے استعمال اور دیکھ بھال کی تربیت دی جائے گی۔رپورٹس کے مطابق ان اداروں میں سب سے اہم ’’غیر انسانی اور ذہین انجینئرنگ کالج‘‘ ہے، جہاں فوجی اہلکاروں کو ڈرون، خودکار نظام، روبوٹکس، مصنوعی ذہانت کی مدد سے فیصلہ سازی، نگرانی کے آلات اور مواصلاتی نظام سے متعلق تربیت دی جائے گی۔نئی تربیت کا مقصد صرف ڈرون چلانے والے اہلکار تیار کرنا نہیں بلکہ ایسے ماہرین تیار کرنا ہے جو ان جدید ٹیکنالوجیز کو فوجی یونٹس میں مؤثر انداز میں یکجا کرسکیں۔چین کی جانب سے یہ اقدام فوج کو جدید بنانے کے طویل مدتی منصوبے کا حصہ قرار دیا جارہا ہے۔ بیجنگ کا ہدف 2027 تک پیپلز لبریشن آرمی کی جدید کاری میں اہم پیش رفت اور 2035 تک مکمل فوجی جدید کاری ہے، جبکہ رواں صدی کے وسط تک فوج کو عالمی معیار کی طاقت بنانا بھی چینی قیادت کے اہداف میں شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کا صدر سے ملاقات کا فیصلہ ،خیبر پختونخوا کی صورتحال پر غور ہو گا
اس کے علاوہ غیر کمیشن یافتہ افسران کے لیے دو نئی فوجی درسگاہیں بھی قائم کی گئی ہیں۔ ایک ادارے میں جنگی معاونت، مواصلات، انجینئرنگ، برقی جنگ اور نگرانی سے متعلق تربیت دی جائے گی، جبکہ دوسرے ادارے میں پیچیدہ ہتھیاروں، فوجی گاڑیوں، ڈرونز اور جدید برقی آلات کی دیکھ بھال کرنے والے تکنیکی ماہرین تیار کیے جائیں گے۔












