اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) خیبر پختونخوا میں دہشت گردی اور سیاسی کشیدگی۔۔۔ وفاقی وزیر امیر مقام نے صوبائی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنا دیا۔امیر مقام کا کہنا ہے کہ ایک طرف خیبر پختونخوا دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے تو دوسری جانب تحریک انصاف اسلام آباد پر دھاوا بولنے کی تیاری کر رہی ہے۔وفاقی وزیر نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پر بھی صوبائی ذمہ داریوں کے بجائے احتجاجی سیاست پر توجہ دینے کا الزام عائد کیا۔
امیر مقام نے نیوز کانفرنس میں کہا کہ خیبر پختونخوا اس وقت دہشت گردی سے دوچار ہے، صوبہ جل رہا ہے اور حالات ایسے ہیں کہ کوئی شخص آزادی سے باہر نہیں نکل سکتا۔ان کا کہنا تھا کہ اگر دہشت گردی خیبر پختونخوا میں مزید پنجے گاڑتی ہے تو یہ صرف صوبے کا نہیں بلکہ پورے ملک کی سلامتی کا مسئلہ بن جائے گا۔وفاقی وزیر نے الزام عائد کیا کہ خیبر پختونخوا اس وقت لاوارث صوبہ بن چکا ہے اور صوبے میں حکومت نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی۔
یہ بھی پڑھیں: سرکاری حج اسکیم، دوسری قسط کی وصولی آج سے شروع
امیر مقام کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی ایک نکاتی ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں اور گزشتہ دو سے ڈھائی ماہ سے اپنی حکومتی ذمہ داریوں کے بجائے دھرنوں اور احتجاجی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کو عوامی مسائل کا احساس نہیں اور اس کی کارکردگی میں بھی سنجیدگی دکھائی نہیں دیتی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ وفاق کو خیبر پختونخوا کے عوام کی مشکلات کا مکمل احساس ہے اور صوبے کے عوام کو دہشت گردی اور بدامنی سے نکالنا سب کی ذمہ داری ہے۔ صوبہ رہے گا تو سیاست بھی رہے گی، قانون کی بالادستی سب کے حق میں ہے۔












