نئی دہلی ( پاک ترک نیوز) بھارت میں بجلی کی قلت ستمبر کے دوران تین سال سے زائد عرصے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، حالانکہ بجلی کی بڑھتی طلب پوری کرنے کے لیے کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں میں پیداوار میں مسلسل چھٹے ماہ اضافہ کیا گیا۔رائٹرز کے مطابق بھارتی ریگولیٹر گرڈ انڈیا کے روزانہ اعداد و شمار کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ ستمبر میں بھارت کو 560 ملین کلو واٹ گھنٹے بجلی کی قلت کا سامنا رہا، جو اگست 2023 کے بعد سب سے زیادہ ہے۔ماہرین کے مطابق کم بارش کے باعث پن بجلی کی پیداوار میں کمی اور دن کے وقت پیدا ہونے والی قابل تجدید بجلی کو ذخیرہ کرنے کے لیے بیٹریوں کی محدود دستیابی نے کوئلے سے بجلی کی پیداوار بڑھانے پر مجبور کیا۔
یہ بھی پڑھیں: چیف کمشنر اسلام آباد نے تین ہزار رینجرز اہلکار مانگ لیے
اعداد و شمار کے مطابق ستمبر میں کوئلے سے بجلی کی پیداوار گزشتہ سال کے اسی ماہ کے مقابلے میں 13.3 فیصد بڑھ گئی، جبکہ مجموعی بجلی پیداوار میں کوئلے کا حصہ اگست کے 64.6 فیصد سے بڑھ کر 66.03 فیصد ہوگیا۔دوسری جانب قابل تجدید ذرائع سے بجلی کی پیداوار میں بھی اضافہ ہوا اور ستمبر میں یہ 25.1 فیصد بڑھ کر 29.62 ارب کلو واٹ گھنٹے ہوگئی۔تاہم مجموعی بجلی پیداوار میں صاف توانائی کا حصہ اگست کے 19.5 فیصد سے کم ہوکر تقریباً 17 فیصد رہ گیا۔بھارتی حکومتی اعداد و شمار کے مطابق تقریباً ہر پانچ میں سے دو کوئلے سے چلنے والے بجلی گھر انتہائی کم ایندھن کے ذخائر پر کام کر رہے ہیں۔ماہرین کے مطابق ستمبر میں صنعتی سرگرمیوں کے باعث بجلی کی زیادہ سے زیادہ طلب میں اضافہ ہوا، جبکہ متعدد بجلی گھر مرمت کے لیے بند ہونے سے بجلی کی قلت میں مزید اضافہ ہوا۔
گرڈ انڈیا کے مطابق ستمبر میں بھارت کی مجموعی بجلی پیداوار گزشتہ سال کے مقابلے میں 11.3 فیصد اضافے کے ساتھ 174.17 ارب کلو واٹ گھنٹے رہی۔












