واشنگٹن (پاک ترک نیوز )امریکا نے ڈرونز کی طاقت بڑھانے کے لیے ایک بڑا صنعتی منصوبہ شروع کردیا ہے۔ امریکی محکمہ جنگ نے Amprius Technologies کو 75 ملین ڈالر تک کی گرانٹ دینے کا اعلان کیا ہے، جس کے ذریعے الیکٹرک گاڑیوں کی بیٹری بنانے والی ایک موجودہ پروڈکشن لائن کو ڈرون بیٹریوں کی فیکٹری میں تبدیل کیا جائے گا۔
کیلیفورنیا کی کمپنی Amprius ایک ایسی امریکی EV بیٹری لائن کو جدید پیداواری مرکز میں تبدیل کرے گی جو جنوبی کوریا کی ایک بڑی کمپنی چلا رہی ہے۔
اس فیکٹری میں ایسی جدید بیٹری سیلز تیار کیے جائیں گے جو خاص طور پر بغیر پائلٹ فضائی نظام، یعنی ڈرونز کے لیے استعمال ہوں گے۔
منصوبہ مکمل ہونے کے بعد 2028 کے آغاز تک ہر سال تقریباً 1 کروڑ 20 لاکھ بیٹری سیلز تیار کرنے کی صلاحیت حاصل ہونے کی توقع ہے۔
اس پورے منصوبے کی لاگت تقریباً 100 ملین ڈالر بتائی گئی ہے، جس میں امریکی حکومت کی گرانٹ کے ساتھ Amprius اور اس کے جنوبی کوریائی مینوفیکچرنگ پارٹنر کی جانب سے دی جانے والی سرمایہ کاری بھی شامل ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ امریکا اچانک الیکٹرک گاڑیوں کی بیٹری لائن کو ڈرونز کے لیے کیوں استعمال کرنا چاہتا ہے؟
اس منصوبے کا تعلق امریکی دفاعی صنعتی صلاحیت کو مضبوط بنانے سے ہے۔ گرانٹ Industrial Base Analysis and Sustainment Program کے تحت دی گئی ہے، جس کا مقصد قومی دفاع کے لیے اہم سمجھی جانے والی مقامی مینوفیکچرنگ صلاحیت کو بڑھانا ہے۔
نئی فیکٹری میں گروپ 1، 2 اور 3 کیٹیگری کے ڈرونز کے لیے بیٹریاں تیار کی جائیں گی۔ ان میں چھوٹے، ہلکے اور پورٹیبل ڈرونز سے لے کر بڑے ٹیکٹیکل بغیر پائلٹ طیارے شامل ہوتے ہیں۔






