برکینا فاسو کی فوجی حکومت نے ملک میں سونے کی پہلی بڑی ریفائنری کا افتتاح کردیا، جس کا مقصد سونے سمیت قیمتی معدنیات کو ملک کے اندر ہی صاف کرکے ان سے حاصل ہونے والی آمدن اور معاشی فوائد کو مقامی سطح پر برقرار رکھنا ہے۔
فوجی حکومت کے سربراہ ابراہیم ٹراؤرے نے دارالحکومت اوگاڈوگو میں ریفائنری کے افتتاح کے موقع پر کہا کہ حکومت ملک کے تمام دھاتوں کو مقامی سطح پر صاف اور تیار کرنے کے لیے پوری قدر افزا زنجیر ملک کے اندر قائم کرنا چاہتی ہے۔
حکومت کے مطابق رافینور بی ایف نامی ریفائنری پر 11 ارب فرانک سے زائد لاگت آئی ہے، جبکہ منصوبے کی مالی معاونت ریاست اور نجی شعبے نے مشترکہ طور پر کی ہے۔
ریفائنری ابتدائی طور پر سالانہ 164 ٹن سونا صاف کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جو برکینا فاسو کی موجودہ سالانہ پیداوار سے بھی زیادہ ہے۔ حکام کے مطابق مستقبل میں اس کی صلاحیت بڑھا کر 515 ٹن سالانہ تک کی جاسکتی ہے، جس سے دیگر افریقی ممالک سے آنے والے سونے کو بھی یہاں صاف کرنے کی راہ ہموار ہوگی۔
برکینا فاسو افریقہ کے بڑے سونا پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے، تاہم غیر رسمی اور چھوٹی سطح کی کان کنی کے باعث سونے کی اسمگلنگ اور غیر قانونی تجارت حکومت کے لیے بڑا مسئلہ رہی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ غیر قانونی طور پر فروخت ہونے والے سونے سے حاصل ہونے والی رقم کا کچھ حصہ ملک میں سرگرم مسلح گروہوں کی مالی معاونت کے لیے بھی استعمال ہوتا رہا ہے۔
برکینا فاسو کئی برس سے القاعدہ اور داعش سے وابستہ مسلح گروہوں کے خلاف لڑ رہا ہے، جبکہ ملک کے کئی علاقوں میں حکومت کی مکمل عمل داری بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔







