اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی داخلہ کا اجلاس سینیٹر فیصل سلیم رحمان کی زیر صدارت جاری ہے، اجلاس میں سگریٹ چوری کے مقدمے پر ایف آئی اے حکام نے بریفنگ دی، کمیٹی ارکان نے مقدمے کے اندراج اور تحقیقات کے طریقہ کار پر سخت سوالات اٹھا دیے۔ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ سینیٹ ذیلی کمیٹی کی ہدایت پر کارروائی کا آغاز کیا گیا تھا، جبکہ 2828 سگریٹ کی چوری کے معاملے پر تحقیقات جاری ہیں۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ مقدمے کی تحقیقات ایک ماہ کے اندر مکمل کر لی جائیں گی۔ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ انہیں زیادہ مسائل ایف بی آر کی جانب سے آتے ہیں۔
چیئرمین کمیٹی فیصل سلیم رحمان نے سوال اٹھایا کہ اس معاملے کو دیکھا جائے کہ کہیں یہ کارروائی ایف بی آر اور فیکٹری مالکان کی ملی بھگت کا نتیجہ تو نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر فیکٹری مالکان بھی یہی طریقہ اختیار کریں اور چوری کا مقدمہ کسی چوکیدار یا ڈرائیور کے خلاف درج کرا دیا جائے تو پھر اصل ذمہ داروں کا تعین کیسے ہوگا؟چیئرمین کمیٹی نے ہدایت کی کہ متعلقہ کمپنی نے کتنے گوشوارے جمع کرائے، اس کی بھی جانچ کی جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایف آئی اے نے درست طریقے سے تحقیقات نہ کیں تو معاملہ قومی احتساب بیورو کو بھجوا دیا جائے گا۔سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ انکوائری رپورٹ سامنے آنے کے بعد تمام حقائق واضح ہو جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اتنی بڑی سگریٹ چوری کا معاملہ ایف بی آر کی ملی بھگت کے بغیر نہیں ہو سکتا۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ سینیٹ ذیلی کمیٹی کی ہدایت پر کارروائی شروع ہوئی اور آخرکار ایک ڈرائیور اور چوکیدار کے خلاف مقدمہ درج ہونے تک معاملہ پہنچ گیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر چوری میں کوئی شخص ملوث ہو تو کیا مقدمہ اس کے ڈرائیور کے خلاف درج ہونا چاہیے؟سینیٹر شہادت اعوان نے مؤقف اختیار کیا کہ اس کیس میں ایف آئی آر درج ہو چکی ہے، اب کمیٹی کو سگریٹ چوری کے معاملے کو دوبارہ زیر بحث نہیں لانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ معاملے کو عدالت دیکھے گی اور کمیٹی کو تفتیشی عمل پر اثرانداز نہیں ہونا چاہیے۔سینیٹر طلحہ محمود نے اس پر کہا کہ اگر پارلیمنٹ ایسے معاملے کی نگرانی نہیں کرے گی تو پھر پارلیمنٹ کو بند کر دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر ایف بی آر سے بھی جواب طلب کیا جانا چاہیے اور کیس کے لیے دوبارہ ذیلی کمیٹی تشکیل دی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کا دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کا دورہ
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ذیلی کمیٹی کی رپورٹ اور درج مقدمے میں فرق ہے۔ ان کے مطابق یہ صرف ایک مقدمہ نہیں بلکہ ایک مثال ہے، جس کے ذریعے پورے معاملے کا جائزہ لینا مقصود ہے۔اجلاس میں چکوال میں پکڑے گئے ایک ٹرک کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ چیئرمین کمیٹی نے بتایا کہ کارروائی کے دوران 22 افراد پکڑے گئے لیکن مقدمہ صرف 11 افراد کے خلاف درج کیا گیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ باقی 11 افراد کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟ایف بی آر حکام نے بتایا کہ جن افراد کے خلاف مقدمہ درج نہیں کیا گیا، وہ ڈرائیور اور لوڈر تھے۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ کمیٹی درج کیے گئے مقدمے سے مطمئن نہیں ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ڈرائیور اور چوکیدار کے پاس اتنا اختیار ہوتا ہے کہ وہ اتنی بڑی چوری کر سکیں؟سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ جن افراد نے 11 ٹرک پکڑے، انہیں ہتھکڑیاں لگا کر گرفتار کیا گیا۔سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ افسوس ہوا کہ کمیٹی کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق ایف بی آر، کسٹمز اور موٹروے حکام نے بتایا کہ 11 افراد گرفتار کیے گئے، جبکہ کارروائی کرنے والے اہلکاروں کے مطابق گرفتار افراد کی تعداد 22 تھی۔
اجلاس میں کمیٹی ارکان نے سگریٹ چوری کے معاملے میں ایف آئی اے، ایف بی آر اور دیگر متعلقہ اداروں سے تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے اصل ذمہ داروں کے تعین پر زور دیا۔












