لاہور( پاک ترک نیوز) کیا آپ نے کبھی انڈا توڑتے ہوئے زردی کے ساتھ ایک سفید رنگ کا باریک دھاگا یا لچکدار تار دیکھا ہے؟ اکثر لوگ اسے دیکھ کر پریشان ہو جاتے ہیں۔ کوئی اسے خون کی رگ سمجھتا ہے، کوئی انڈے کے خراب ہونے کی نشانی، جبکہ بعض لوگ اسے گندگی یا جراثیم سمجھ کر پورا انڈا ہی پھینک دیتے ہیں۔
لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ ماہرینِ غذائیت کے مطابق انڈے کے اندر موجود یہ سفید دھاگا نہ صرف مکمل طور پر محفوظ ہوتا ہے بلکہ درحقیقت انڈے کے تازہ ہونے کی اہم علامت بھی ہے۔
سائنسی زبان میں اس سفید دھاگے کو کلازا (Chalaza) کہا جاتا ہے۔ یہ قدرتی طور پر ہر انڈے کے اندر موجود ہوتا ہے اور اسی پروٹین سے بنتا ہے جس سے انڈے کی سفیدی تیار ہوتی ہے۔ اس کا تعلق نہ کسی بیماری سے ہے اور نہ ہی یہ کسی قسم کی گندگی کی علامت ہے۔
اس کا بنیادی کام انڈے کی زردی کو درمیان میں متوازن رکھنا ہوتا ہے تاکہ نقل و حرکت کے دوران زردی چھلکے سے ٹکرا کر خراب نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ تازہ انڈوں میں یہ دھاگا زیادہ واضح دکھائی دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: موٹاپا خاموش قاتل بن گیا
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سفید دھاگا مکمل طور پر کھانے کے قابل ہے اور اس میں بھی وہی غذائیت موجود ہوتی ہے جو انڈے کی سفیدی میں پائی جاتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ جیسے جیسے انڈا پرانا ہوتا ہے، اس دھاگے کی مضبوطی کم ہوتی جاتی ہے اور یہ کم نمایاں ہونے لگتا ہے۔
لہٰذا اگلی بار اگر انڈا توڑتے ہوئے آپ کو یہ سفید دھاگا نظر آئے تو پریشان ہونے کے بجائے اطمینان رکھیں، کیونکہ یہ اس بات کی علامت ہے کہ آپ کے ہاتھ میں موجود انڈا تازہ اور استعمال کے لیے موزوں ہے۔






