انقرہ ( پاک ترک نیوز) ٹرین چلے گی مگر ڈرائیور نہیں ہوگا۔۔ جی ہاں ،ترکیہ نے انوکھا منصوبہ لانچ کر دیا ،،، استنبول میں دنیا کی طویل ترین اور تیز ترین میٹرو لائنوں میں سے ایک کا آخری مرحلہ مکمل کر لیا گیا جس کے بعد شہر کے قلب سے بین الاقوامی ہوائی اڈے تک رسائی اب صرف چند منٹوں کی بات رہ گئی ہے۔
69 کلومیٹر طویل یہ جدید میٹرو لائن مکمل طور پر زیر زمین تعمیر کی گئی ۔ اس کی سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ اس پر چلنے والی بیشتر ٹرینیں بغیر ڈرائیور کے سفر کریں گی۔
ترک صدر رجب طیب اردوان نے منصوبے کا افتتاح کرتے ہوئے اسے جدید ترکیہ کے وژن کا مظہر قرار دیا۔ صدر اردوان نے کہا کہ 1 کروڑ 60 لاکھ آبادی اور سالانہ تقریباً 2 کروڑ سیاحوں والے استنبول کو جدید ریلوے نیٹ ورک سے جوڑا جا رہا ہے۔
120 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑنے والی یہ میٹرو ترکیہ کی تیز ترین میٹرو سروس بن گئی ۔ اب حلقالی سے استنبول ایئرپورٹ کا سفر صرف 30 منٹ جبکہ شہر کے اہم کاروباری مرکز گیریت تپے تک سفر صرف 57 منٹ میں مکمل ہو سکے گا۔
اس جدید منصوبے سے تقریباً 15 لاکھ افراد کو شہر کے مرکز اور استنبول ایئرپورٹ تک براہِ راست ریل رسائی حاصل ہو جائے گی۔، جبکہ شہر کی سڑکوں پر ٹریفک کا بوجھ بھی نمایاں طور پر کم ہونے کی توقع ہے۔
اس منصوبے کی ایک اور منفرد خصوصیت یہ ہے کہ اس میں استعمال ہونے والا سگنلنگ سسٹم بھی مقامی طور پر تیار کیا گیا ہے، جو ترکیہ کی تکنیکی خودمختاری کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چوبیس گھنٹے ہوا میں اڑنے والا طیارہ
ترک حکومت کے مطابق یہ منصوبہ 2043 تک تقریباً 935 ملین یورو کے معاشی فوائد پیدا کرے گا، جبکہ ٹریفک کے دباؤ میں کمی کے باعث مسافروں کے تقریباً 11 کروڑ 70 لاکھ گھنٹے بچ سکیں گے۔
میٹرو لائن کا پہلا 47 کلومیٹر طویل حصہ گزشتہ برسوں میں مرحلہ وار کھولا گیا تھا، جبکہ نئے سیکشن میں ابن خلدون یونیورسٹی، کایاشہر، اولمپیات کوئے، حلقالی اسٹیڈیم اور حلقالی سمیت پانچ نئے اسٹیشن شامل کیے گئے۔






