
از: سہیل شہریار
پاکستان نے گذشتہ 16 مہینوں میں زمین کا مشاہدہ کرنے والے 6 سیٹلائٹ لانچ کر کے ایک نگرانی کا نیٹ ورک بنالیا ہے۔، جس سے اس کےمصنوعی سیاروںکے فعال خلائی بیڑے کی تعداد 15 سے زائد سیٹلائٹس تک پہنچ گئی۔ جو ہر دو دن میں کم از کم ایک بارکسی بھی علاقے کی تصویر کشی کر سکتے ہیں۔
چین کی مدد سے خلا میں بھیجے گئے یہ سیٹلائٹس سول اور فوجی مقاصد کے لئے بروئے کا لائے جا سکتے ہیں۔یہ فصلوں ،موسموں، ماحولیاتی تبدیلی اور تحقیق و ترقی کی دیگر سرگرمیوں کے علاوہ فوجی نقل و حرکت اور اسٹریٹجک اثاثوں کو ٹریک کرسکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ایسے وقت میں جب پاکستان نے اپنے خلائی تزویراتی اثاثوں میں تیزی سے توسیع اکی ہے۔ہندوستان کو کئی اسٹریٹجک سیٹلائٹ مشنوں میں ناکامیوں کا سامنا ہے۔اور جنوری 2025سے اب تک بھارتی خلائی تحقیق کے ادارے آئی ایس آر او کو تین بڑی ناکامیووں کا منہ دیکھنا پڑا ہے جن میں جنوری 2025 میں راکٹ نے نیویگیشن سیٹلائٹ این وی ایس۔02 کو مدار میں پہنچا دیا۔ لیکن والو کی ایک اہم خرابی نے سیٹلائٹ کو ناقابل استعمال چھوڑ دیا۔ دوسری ناکامی کا منہمئی 2025میں اس وقت دیکھنا پڑا جب تیسرے مرحلے کے دہن کے دباؤ میں کمی نے ای او ایس۔ 09 ارتھ آبزرویشن سیٹلائٹ کو مدار تک پہنچنے سے روک دیا۔جبکہ آئی ایس آر او کوتیسری اور اب تک کی سب سے بڑی ناکامی کا سامنا رواں سال جنوری 2026میں کرنا پڑا جبتیسرے مرحلے کی بے ضابطگی نے راکٹ کا کنٹرول کھو دیا جس میںایک ارتھ آبزرویشن سیٹیلائٹ ای او ایس۔این1سمیت16مصنوعی سیارے کھو دئیے گئے۔
دوسری جانب پاکستان نے اپنے مصنوعی سیاروں کے جھرمٹ کو مکمل کرنے کے منصوبے پر عملدرآمد کو تیز کرتے ہوئےصرف 16ماہ کے مختصر عرصے میں چھ نئے سیٹیلائٹس خلامیں بھجوائے ہیں ۔ ان میں 25 اپریل 2026 کو چین کے تائی یوان سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے اپنے مدار میں پہنچنے والا پی آر ایس سی۔ ای او-3ایک جدید، مقامی طور پر بنایا گیا زمین کا مشاہدہ کرنے والا سیٹلائٹ ہے جسے پاکستان کی خلائی ایجنسی سپارکو نے تیار کیا ہے۔جبکہ اس میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ، زرعی نگرانی، اور شہری منصوبہ بندی کے لیے ڈیزائن کردہ ہائی ریزولوشن امیجنگ کی خصوصیات ہیں۔ اور یہ اپنی معلومات آواکس جہازوں کے ساتھ بھی شیئر کر سکتا ہے۔اس قبل زمین کے مشاہدے کے لئے 2025میں ای او ۔1اور رواں سال فروری 2026میں ای او۔2کو مدار میں پہنچایا گیا تھا۔یہ تینوں مصنوعی سیارے ملکر ایک منصوبہ بند مربوط زمینی مشاہداتی نظام کی ریڑھ کی ہڈی بناتے ہیں جس کا مقصد ڈیٹا کی دستیابی اور کوریج کو بہتر بنانا ہے۔
پاکستان کے خلائی تحقیق کے ادارے سپارکو کے حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت پاکستان 5پلس ارتھ آبزرویشن سیٹلائٹس چلارہا ہے۔انکے مطابق یہ ایک بڑے ملٹی ڈومین تبدیلی کے پروگرام کا حصہ ہے۔ جس کی خصوصیات الگ تھلگ مشنوں سے ایک مربوط سیٹلائٹ نیٹ ورک تک،بیرونی انحصار سے ڈیٹا کی آزادی میں اضافہ تک سست لانچوں سے ایک منظم رول آؤٹ حکمت عملی تک منتقلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے خلائی نگرانی کے پروگرام کی سمت واضح ہے۔ ہماری توجہ انفرادی کامیابیوں کی بجائے ایک متحرک اور مستحکم نظا م کی تعمیر ہے۔جو تسلسل کے ساتھ جاری رہنے ولا عمل ہے۔
ماہرین کی رائے ہے کہ آنے والے سالوں میں اضافی سیٹلائٹس کی توقع کے ساتھ، ایسا لگتا ہے کہ پاکستان خلائی مشاہدے کے ایک کثیرجہتی انتظام کی طرف بڑھ رہا ہے جسے باقاعدہ، وسیع علاقے کی نگرانی کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
پاکستان کا مصنوعی سیاروں کا جھرمٹ تیزی سے ایک مضبوط زمینی مشاہدے اور ریموٹ سینسنگ نیٹ ورک میں پھیل گیا ہے جسے سپارکو نے تیار کیا ہے۔ اس کے کل فعال خلائی ہارڈویئر بیڑے کی تعداد 15 سے زائد سیٹلائٹس تک پہنچ گئی ہے۔مصنوعی سیاروں کا یہ جھرمٹ بنیادی طور پر ہائی ریزولوشن آپٹیکل، ہائپر اسپیکٹرل، اور کمیونیکیشن سیٹلائٹس پر مشتمل ہے جو زرعی نگرانی، ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور علاقائی نگرانی کے لیے بنائے گئے ہیں۔












