منیلا(پاک ترک نیوز) فلپائن کے جنوبی جزیرے منڈاناؤ میں 7.8 شدت کے طاقتور زلزلے نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔ حکام کے مطابق زلزلے کے نتیجے میں متعدد عمارتیں منہدم ہو گئیں جبکہ کم از کم 5 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔
امریکی جیولوجیکل سروے اور فلپائنی زلزلہ پیما اداروں کے مطابق زلزلے کے شدید جھٹکے منڈاناؤ کے مختلف شہروں سمیت ملک کے کئی حصوں میں محسوس کیے گئے، جس کے بعد خوفزدہ شہری گھروں، دفاتر اور تجارتی مراکز سے باہر نکل آئے۔
مقامی حکام کا کہنا ہے کہ زلزلے سے متعدد رہائشی عمارتوں، دکانوں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے۔ امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں ملبے تلے دبے افراد کی تلاش اور زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے میں مصروف ہیں۔
زلزلے کے فوراً بعد حکام نے سونامی وارننگ جاری کرتے ہوئے ساحلی علاقوں کے مکینوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بعض ساحلی علاقوں میں تین میٹر تک بلند لہریں اٹھ سکتی ہیں، جس سے مزید نقصان کا خدشہ ہے۔
فلپائن کی کوسٹ گارڈ، فوج اور مقامی انتظامیہ کو ہنگامی حالت میں الرٹ کر دیا گیا ہے جبکہ ماہی گیروں اور سمندر میں موجود کشتیوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
فلپائن بحرالکاہل کے اُس خطے میں واقع ہے جسے رِنگ آف فائر کہا جاتا ہے۔ یہ دنیا کا وہ خطہ ہے جہاں زمینی پلیٹوں کی مسلسل حرکت کے باعث زلزلے اور آتش فشاں سرگرمیاں معمول کا حصہ سمجھی جاتی ہیں۔ اسی وجہ سے فلپائن دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں ہر سال سینکڑوں زلزلے ریکارڈ کیے جاتے ہیں۔
فلپائن اس سے قبل بھی کئی ہولناک زلزلوں کا سامنا کر چکا ہے۔ 1990 میں شمالی فلپائن میں آنے والے 7.7 شدت کے زلزلے میں تقریباً 2 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ ہزاروں عمارتیں تباہ ہو گئی تھیں۔
اسی طرح 2013 میں صوبہ بوہول میں آنے والے 7.2 شدت کے زلزلے نے تاریخی عمارتوں اور گرجا گھروں کو شدید نقصان پہنچایا تھا اور 200 سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔
دسمبر 2023 میں بھی جنوبی فلپائن میں 7.6 شدت کے زلزلے کے بعد سونامی وارننگ جاری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد کو ساحلی علاقوں سے محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا تھا۔








