مظفر آباد (پاک ترک نیوز )آزاد کشمیر پولیس نے کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے خلاف ایکشن شروع کر دیا ، گزشتہ اٹھارہ گھنٹوں میں 72افراد کو گرفتار کرلیا گیا ۔
پولیس کے مطابق گرفتار افراد سے اسلحہ، مواصلاتی آلات اور مشتبہ دستاویزات برآمد کر لی گئی ہیں،ملزموں سے تفتیش جاری ہے۔
پولیس نےکاہامن عامہ خراب کرنے اور ریاستی اداروں کے خلاف اشتعال انگیزی کی منصوبہ بندی کے شواہد ملے ہیں ۔سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے کے منصوبوں سے متعلق مواد بھی برآمد کرلیا گیا۔
غیر ملکی افراد سے مشکوک روابط کے اشاروں کی تحقیقات جاری ہیں ، قانون نافذ کرنے والے ادارے متحرک ہو گئے ۔
پولیس کا کہنا ہے عوامی مسائل کی آڑ میں پرتشدد احتجاجی تحریک اور معمولات زندگی مفلوج کرنے کی سازش بے نقاب ہو گئی۔
آئی جی آزاد کشمیر کاکہنا ہےپرامن احتجاج اور آئینی اظہارِ رائے کا احترام کرتے ہیں، تشدد، اشتعال انگیزی، اسلحہ کے استعمال اور سڑکوں کی بندش کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
آئی جی پولیس نے کہا امن عامہ کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف قانون بلا امتیاز حرکت میں آئے گا۔گرفتار افراد کے خلاف قانونی کارروائی، تفتیش اور عدالتی عمل مروجہ قوانین کے مطابق ہوگا۔
پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہشہری افواہوں اور اشتعال انگیز مواد سے گریز کریں، مشکوک سرگرمیوں اور امن خراب کرنے کی کوششوں کی فوری اطلاع پولیس کو دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ترجمان پولیس کے مطابق تمام مرکزی سڑکیں اور مارکیٹس معمول کے مطابق کھلی ہیں، آزاد کشمیر پولیس امن، قانون کی عملداری اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ
واضح رہے کہ ایک روز پہلے آزاد کشمیر حکومت نے عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دیا تھا ۔
حکومتی نوٹیفکیشن کے مطابق جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی ، جموں کشمیر ایکشن کمیٹی اور عوامی ایکشن کمیٹی کے نام سے کام کرنے والی تنظیموں کو فرسٹ شیڈول میں شامل کر لیا گیا ۔
نوٹیفکیشن کے ماطبق تنظیم کے خلاف امن و سلامتی کو نقصان پہنچانے کے شواہد موجود ہیں اور یہ ریاست میں انتشار، عوام میں خوف و ہراس اور عدم تحفظ کے احساس کو فروغ دینے میں ملوث رہی ہے۔
حکومت نے واضح کیا ہے کہ کالعدم قرار دی گئی تنظیم کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی جبکہ ریاست میں امن، قانون کی عملداری اور عوامی تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔
حکومتی ذرائع اور سیاسی قیادت کا کہنا ہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے عوامی مسائل کے نام پر گمراہ کن بیانیہ اختیار کیا۔ حکام کے مطابق تنظیم کے 38 مطالبات میں سے 35 مطالبات تسلیم کیے جا چکے ہیں۔
حکام کے مطابق حکومت نے مذاکرات، ریلیف اور عملدرآمد کی پالیسی اپنائی، تاہم ایکشن کمیٹی احتجاجی سیاست اور دباؤ کی حکمت عملی پر قائم رہی۔
حکومت کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر کی حکومتی اور اپوزیشن جماعتیں امن و امان کے معاملے پر متفق ہیں اور آل پارٹیز کانفرنس کے اعلامیے کی آزاد کشمیر اسمبلی سے توثیق اس اتفاقِ رائے کا مظہر ہے۔
حکام کے مطابق اگر امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی کوشش کی گئی تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
حکومت نے یہ بھی کہا ہے کہ مذاکرات کے دروازے بند نہیں کیے گئے، تاہم ریاست کے امن، استحکام اور عوامی تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔







